’خواتین بار میں کام کر سکتی ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ خواتین شراب خانوں اور اایسے ہوٹلوں میں کام کر سکتی ہیں جہاں شراب پیش کی جاتی ہو۔ عدالت نے اس قانون کو کالعدم قرار دیدیا ہےجس میں خواتین کے لیے ایسی جگہوں پر کام کرنے کی ممانعت تھی۔ دلی ہائی کورٹ نے مفاد عامہ کی ایک پٹیشن پر سماعت کے بعد کہا ہے کہ اس طرح کی کوئی پابندی نہیں عائد کی جا سکتی کہ جہاں شراب یا دیگر نشہ آور اشیا پیش کی جاتی ہیں وہاں خواتین کام نہیں کر سکتی ہیں۔ لیکن عدالت نے یہ بھی ہدایات دی ہیں کہ خواتین سے اس طرح کے کام بغیر انکی مرضی کے نہیں کراوائے جاسکتے اور انتظامیہ ان پر کوئی زبرستی نہیں کرسکتی ہے۔ اس بارے میں عدالت نے پنجاب کے ایکسائز قانون کی دفعہ تیس کو بھی غیر آئینی قرار دیا ہے جس کے تحت پچیس برس سے کم عمر کےمرد و خواتین کو ایسی جگہ پر کام کرنے سے منع کیا گیا تھا جہاں شراب کی خدمات مہیا کی جاتی ہوں۔ عدالت کےاس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ اب خواتین بھی شراب خانوں یا باروں میں ویٹر کا پیشہ اختیار کرنے کی مجاز ہونگی۔ مفاد عامہ کی عذر داری ہوٹل ایسوسی ایشن آف انڈیا نے دائر کی تھی۔سینیئر وکیل ارن جیٹلی نے اس معاملے پر بحث کے دوران عدالت سے کہا تھا کہ آئین کی رو سے خواتین کو مرضی کے مطابق پیشہ اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔لیکن موجودہ قانون سے جہاں خواتین کے بنیادی حقوق کی حق تلفی ہوتی ہے وہیں انکے ساتھ یہ ایک امتیازی سلوک بھی ہے۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ خود حکومت شراب بیچتی ہے اور قانونی طور پراس کی اجازت بھی دیتی ہے تو اس کی خرید و فروخت میں خواتین کی شمولیت غیر قانونی عمل کیسے ہوسکتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی موجودگی سے ہندوستان کے باروں میں اب مزید رونقیں آ جائیں گیں۔ | اسی بارے میں حکم امتناعی نہیں ملےگا: ہائی کورٹ 19 August, 2005 | انڈیا ڈانس بار: مہاراشٹر حکومت کونوٹس 17 August, 2005 | انڈیا ڈانس بار پر پابندی کے لیے بل منظور 22 July, 2005 | انڈیا ممبئی: ڈانس بار بند، مجرے شروع 06 June, 2005 | انڈیا ممبئی میں بھی ڈانس بار بند13 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||