ممبئی میں بھی ڈانس بار بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت مہاراشٹر نے دیگر اضلاع کے ساتھ ساتھ ممبئی کے بھی ڈانس بار بند کرنے کا حکم دے دیا۔ وزیر داخلہ آر آر پاٹل کا کہنا ہے کہ ان ڈانس بارز میں فحش حرکتیں ہوتی ہیں اور یہاں سے جسم فروشی کے لئے لڑکیاں سپلائی کی جاتی ہیں۔ ممبئی سمیت مہاراشٹر میں ایک ہزار دوسوپچاس ڈانس بار کے پاس لائسنس ہیں۔ لیکن غیر قانونی طور پر چلنے والے بارز کی تعداد ڈیڑھ ہزار ہے جن میں تقریبا پچھتر ہزار لڑکیاں کام کرتی ہیں۔ حکومت کو ان سے بطور ٹیکس سترہ ہزار چار سو کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے۔ بیئر بار اور ڈانس بار کو لائسنس دینے کے لئے پولس کو سالانہ تین ہزار کروڑ روپےملتے ہیں ۔ بار ایسوسی ایشن کے صدر منجیت سنگھ سیٹھی اور ڈانس بار میں کام کرنے والی خواتین کی تنظیم کی صدر ورشا کالے نے حکومت کے اس فیصلے پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہےاور دونوں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تیاری کر رہے ہیں ۔ حکومت کے اس فیصلے سے پچھتر ہزار لڑکیاں اور بار میں کام کرنے والے تمام ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے۔ اسی دوران ورشا کالے نے دہلی میں حقوق انسانی کی تنظیم، کمیشن برائے حقوق پسماندہ ذات اور طبقات کے علاوہ خواتین کے کمیشن سے شکایت کی ہے انکا کہنا ہے کہ یہ بار میں کام کرنے والی خواتین کے خلاف نا انصافی ہے۔ ڈانس بار بند کر دینے کے بعد حکومت کےسامنے ان لڑکیوں کی بے روزگاری کا مسئلہ ہے۔ وزیر داخلہ پاٹل کا کہنا ہے کہ ان باروں میں صرف چار فیصدلڑکیاں مہاراشٹر کی ہیں۔ باقی زیادہ تر بنگلہ دیش سے آئی ہیں۔ ورشا حکومت کے اس دعوے کو کھوکھلا بتاتی ہیں۔ان کے مطابق ان میں بنگلہ دیش کی صرف چار فیصد لڑکیاں ہیں۔ ورشا کا الزام ہے کہ بنگلہ دیشیوں کے بہانے پولس مسلم لڑکیوں کو ہراساں کر رہی ہے۔ چھاپوں کے دوران پولس ڈانسرز کو پریشان کرتی ہے اور ان کا جسمانی استحصال بھی کرتی ہے۔ خود منجیت سیٹھی کو اعتراف ہے کہ ڈانس بار میں جسم فروشی ہوتی ہے۔ لیکن انہیں اس پر اعتراض ہے کہ اس کا سہارا لے کر حکومت تمام ڈانس بار بند کر رہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو جسم فروشی کرنے والے باروں کو بند کرنا چاہۓ۔ ڈانس بار بند ہو جانے سے بیئر باروں کے بند ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ سیٹھی کے مطابق ’اگر بار میں ڈانس نہیں ہوگا تو لوگ محض شراب پینے نہیں آئیں گے‘۔ کسی بیئر بار میں ڈانس فلور کی اجازت حاصل کرنے کے لئے بار مالک کو دو لاکھ پچھتر ہزار روپے میں لائسنس حاصل کرنا پڑتا ہے ڈانس کے ایک فلور کی فیس پچیس ہزار روپے اور تفریحی ٹیکس کے لئے تیس ہزار روپے ادا کرنے ہوتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||