BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 March, 2005, 01:13 GMT 06:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رقص، لڑکیوں اور شراب کا میل بند
مہاراشٹر
ممبئی میں اس سے پہلے بھی شراب خانوں میں کام کرنے والیوں کو پولیس تنگ کرتی رہتی ہے جس کے خلاف شدید مظاہرے بھی ہوتے رہے ہیں
مہاراشٹر کی حکومت نے کہا ہے رقص والے اور شراب خانے والے جرائم اور جسم فروشی کو فروغ دے رہے ہیں۔

حکومت نے ایسے تمام شراب خانوں کو بند کر دے گی جن میں لڑکیاں رقص کرتی ہیں۔

مہارشٹر کے دارالحکومت ممبئی کے علاوہ ریاست میں کوئی پندرہ سو رقص بار ہیں جن میں ایک لاکھ لڑکیاں اور عورتیں ناچنے کا کام کرتی ہیں اور زیادہ تر بھارتی فلمی گانوں پر ہی رقص کرتی ہیں۔

بار مالکان کا کہنا ہے کہ ہے کہ حکومت کا الزام غلط ہے اور اگر حکومت نے ایسی کوئی کارروائی کی تو وہ اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے اس فیصلے کا اعلان مہاراشٹر اسمبلی میں کیا ہے۔ مسٹر پاٹل نے اسمبلی کو بتایا کہ ان شراب خانوں میں نوجوان بے دریغ پیسے خرچ کرتے ہیں اور پھر جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ فوری اقدام یہ کیا جائے گا کہ ان شراب خانوں کے اجازت نامے منسوخ کر دیے جائیں گے۔

News image
لڑکیاں شراب خانوں میں ناچتی ہیں اور تماشائی ان پر نوٹ نچھاور کرتے ہیں۔

تاہم اس میں ابھی ممبئی کو شامل نہیں کیا گیا اور دارالحکومت کے بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک کمیٹی اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ اور اس کے فیصلوں کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ شراب خانے روایت کا حصہ ہیں اور انہیں بند کرنا آسان کام نہیں ہو گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد