رقص، لڑکیوں اور شراب کا میل بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کی حکومت نے کہا ہے رقص والے اور شراب خانے والے جرائم اور جسم فروشی کو فروغ دے رہے ہیں۔ حکومت نے ایسے تمام شراب خانوں کو بند کر دے گی جن میں لڑکیاں رقص کرتی ہیں۔ مہارشٹر کے دارالحکومت ممبئی کے علاوہ ریاست میں کوئی پندرہ سو رقص بار ہیں جن میں ایک لاکھ لڑکیاں اور عورتیں ناچنے کا کام کرتی ہیں اور زیادہ تر بھارتی فلمی گانوں پر ہی رقص کرتی ہیں۔ بار مالکان کا کہنا ہے کہ ہے کہ حکومت کا الزام غلط ہے اور اگر حکومت نے ایسی کوئی کارروائی کی تو وہ اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے اس فیصلے کا اعلان مہاراشٹر اسمبلی میں کیا ہے۔ مسٹر پاٹل نے اسمبلی کو بتایا کہ ان شراب خانوں میں نوجوان بے دریغ پیسے خرچ کرتے ہیں اور پھر جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فوری اقدام یہ کیا جائے گا کہ ان شراب خانوں کے اجازت نامے منسوخ کر دیے جائیں گے۔
تاہم اس میں ابھی ممبئی کو شامل نہیں کیا گیا اور دارالحکومت کے بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک کمیٹی اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ اور اس کے فیصلوں کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ شراب خانے روایت کا حصہ ہیں اور انہیں بند کرنا آسان کام نہیں ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||