مہاراشٹرا:مسجدوں پر حملے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹرا کے دو قصبوں میں دو مسجدوں پر بم حملوں کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے ہیں اور وہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دھماکےممبئ سے 500 کلومیٹر دور قصبے، جلنا اور پارہنی میں جمعہ کی نماز کے وقت ہوئے۔ دھماکوں میں کسی شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے لیکن 19 نمازی زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق کچھ لوگوں نے مسجدوں میں گھریلو ساخت دو مسجدوں میں پھینکا جس سے کم از کم انیس افراد زخمی ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں جلنا اور پارہنی کے قصبوں میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے ۔ گجرات میں 2002 میں ہندو مسلم فسادات کے بعد اس علاقے میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ مہاراشٹرا پولیس کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے گھریلو ساخت کے بموں سے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جلنا کے دھماکے میں سات افراد زخمی ہوئے جبکہ پارہنی میں بارہ افراد زخمی ہوئے۔ مہاراشٹرا پولیس کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ قصبوں میں حالات کشیدہ ضرور ہیں لیکن کنٹرول میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان قصبوں میں پولیس کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہجوم گلیوں میں گھوم رہے تھے اور لوگوں کو بازار بند کرنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||