جان لیوا جام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے صنعتی شہر ممبئی میں گزشتہ تین روز میں زہریلی شراب پینے سے تقریبا 60 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور متعدد ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ حکومت نے اس واقعہ کے بعد متعدد پولیس اہلکاروں اور سرکاری افسروں کو برطرف کر دیا ہے۔ منگل کی رات مشرقی ممبئی کے ویکرولی علاقے میں زہریلی شراب پینے سے بہت سے افراد ہسپتال میں داخل کیے گئے ہیں جن میں سے تقریباً پچاس لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔ گزشتہ اتوار کو مرکزی ممبئی کے مہالکشمی علاقے میں بھی ایک ایسے ہی واقعہ میں تقریباً ایک درجن افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ حکام کے مطابق بہت سے افراد اب بھی ہسپتال میں زیرِعلاج ہیں اور ان میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ علاقے کے کئی پولیس اہلکاروں اور ایکسائز شعبے کے بعض افسران کو اس بات کا علم تھا کہ ان علاقوں میں غیرقانونی طور پر شراب تیار کی جاتی ہے لیکن متعلقہ افسران نے قانونی کارروائی میں کوتاہی برتی ہے اس لیے 16 پولیس اہلکاروں اور ایکسائز کے سات افسران کو برطرف کر دیا گیا۔ حکومت کے لئے ریاست مہاراشٹر میں شراب کی غیرقانونی باعث تشویش ہے۔ اعلیٰ شراب مہنگي ہے جس کے سبب غریب طبقہ غیرقانونی طور پر تیار کردہ سستی شراب استعمال کرتا ہے اور بسا اوقات وہی جام ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ ریاست میں غیرقانونی شراب تیار کرنے پر پابندی عائد ہے۔ لیکن ایک سروے کے مطابق مہاراشٹر میں 30 فیصد سے زائد شراب غیر قانونی طور پر تیار کی جاتی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس کی اصلاح کیلئے یا تو لائسنسنگ کے نظام میں نرمی کی جائے یا پھر اس سلسلے معاملے میں قانون کا سختی سے نفاذ ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||