ہندو خواتین کو حق وراثت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی پارلیمان کے ایوان بالا، راجیہ سبھا نے ایک نئے قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت ہندو خواتین کو بھی مردوں کے برابر وراثت کا حق دیا گیاہے۔ یہ قانون پہلے ہی ایوان زیریں لوک سبھا سے منظور ہو چکا ہے۔ وزیر قانون ہنس راج بھاردواج کی طرف سے پیش کیے گئی اس بل سے ہندوؤں کے وراثت کے انیس سو چھپن کے قانون میں ترمیم کی ہے جس کے تحت صرف بیٹوں کو وراثت کو حق حاصل تھا۔ نئے قانون کے منظور کئے جانے کے بعد بیٹیوں کے حق وراثت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ جدید معاشرے میں لڑکے اور لڑکیوں میں کوئی تخصیص نہیں کی جاسکتی۔ وزیر قانون نے کہا کہ ایک اور قانون کے مسودے پر کام کیا جا رہا ہے جس میں گھریلو تشدد کی برائی کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||