دلی کے مائیکرو چپ مویشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی دارالحکومت دلی میں لاوارث جانوروں کو پکڑنے کی مہم اب کمپیوٹرائزڈ کی جا رہی ہے۔ دلی میونسپل کارپوریشن سڑکوں پر گھومنے والے لاوارث جانوروں کے جسم میں ایک کمپیوٹرائزڈ چپ لگا ئے گی تا کہ انہیں آسانی سے پہچانا جا سکے۔ لاوارث جانورں کو پکڑے جانے کی مہم کے باوجود دلی کی سڑکوں پر ان کی تعداد میں کوئی خاص کمی نہیں آرہی تھی۔ دلی ہائی کورٹ نے میونسپل کارپوریشن کو یہ حکم دیا کہ وہ اب یہ کام عوام کو سونپ دے اور ہر لاوارث گائے یا بھینس پکڑ کر لانے والے شخص کو معاوضے کے طور پر دو ہزار روپے ادا کرے۔ عدالت کے اس فیصلے کے لئے میونسپل کارپوریشن کے اہلکار پوری طرح تیار نہیں تھے اور ایک ساتھ بڑی تعداد میں گائیں جمع ہونے کے سبب افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ دلی میونسپل کارپوریشن کےمطابق کمپیوٹرازڈ چپ کی مدد سے لاوارث جانوروں کی پہچان آسان ہو جائے گی۔ میونسپل کمشنر راکیش مہتا بتاتے ہیں کہ’ اس کمپیوٹرائزڈ چپ کی مدد سے لاوارث گائے کی شناخت آسان ہو جائے گی اور جس طرح بعض افراد پیسوں کی لالچ کے سبب ایک ہی گائے دوبارہ لا رہے ہیں اس پر بھی قابو پا لیا جائے گا‘۔ انہوں نے بتایا کہ یہ چپ جانوروں کی کھانے کی نلی میں لگائی جائے گی اور اسے لگانے میں تقریبا 500 روپے کا خرچ آئے گا۔ بعض افراد کے مطابق میونسپل کارپوریشن انعام کی رقم کے بجائے رسیدیں دے رہی ہے جبکہ کارپوریشن کے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ بعض افراد پیسوں کی لالچ میں ایک ہی گائے بار بار واپس کارپوریشن کے مویشی خانے میں لا رہے ہیں ہیں۔ عوام میں اس مہم کے بارے میں کافی دلچسپی پیدا ہو گئی ہے اور اطلاعات کے مطابق ایک علاقے میں لاوارث گائے کو پکڑنے والوں کی اتنی بھیڑ جمع ہو گئی کہ اس میں ایک عورت بری طرح زخمی ہو گئی۔ ہندو مذہب میں گائے کو ایک مقدس جانور مانا جاتا ہے۔ اور انکے ذبیحہ پر پابندی عائد ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دارالحکومت دلی کی سڑکوں پر تقریباً 40 ہزار لاوارث گائیں گھومتی رہتی ہیں جو اکثر حادثوں اور ٹریفک جام کا سبب بنتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||