لاوارث گائے پکڑو، انعام پاؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی میونسپل کارپوریشن کا دفتر شہر میں گائے کی بِھیڑ سے پریشان ہے اور اسے پیسوں کی بھی کمی محسوس ہورہی ہے۔ دلی ہائی کورٹ کے ایک حکم کے بعد دلی کے بہت سے شہری پیسوں کے لیے لاوارث گائیں پکڑ کر ایم سی ڈی کے دفتر پہنچا رہے ہیں۔ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا تھا کہ جو شخص سڑک پر گھومتی لاوارث گائے ایم سی ڈی کے مویشی خانے پہنچائے گا اسے دو ہزار روپے بطور انعام دیے جائیں گے۔ عدالت کی ان ہدایات کے بعد بہت سے افراد ایک نہیں کئی کئی گائیں لے کر ایم سی ڈی کے مویشی خانے پہنچ گئے۔ بعض لوگ اپنی ہی بوڑھی گائے ایم سی ڈی کے پاس لےگئے تا کہ گائے سے نجات مل جائے اور پیسے بھی مل جائيں۔ میونسپل کارپوریشن کے اہل کار عدالت کے حکم کی تعمیل کے لیے پوری طرح تیار نہیں تھے اس لیے بڑی تعداد میں گائیں جمع ہونے سے افرا تفری کا ماحول ہوگیا۔ کارپوریشن کے پاس ان افراد کو دینے کے لیے پیسے بھی نہیں تھے اس لیے گائے پکڑنے والوں کو رسیدیں دی جا رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گائے پکڑنےاور انہیں لے جانے میں کئی لوگوں کو چوٹیں آئی ہیں اور ٹریفک میں بھی خلل پڑا ہے۔ ہندو مذہب میں گائے ایک مقدس جانور ہے اور اس کے ذبیحہ پر پابندی عائد ہے۔ دلی میں عام طور پر جب گائے بوڑھی ہوجاتی ہے تو اسے بےسہارا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایسی ہزاروں لاوارث گائیں سڑکوں پر دن رات گھومتی رہتی ہیں۔ متعدد بار ان سے ٹریفک میں خلل پڑتا ہے اور بارہا پارکوں اور دیگر مقامات پر ان کی موجودگی سے عوام کو پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔ دلی ہائی کورٹ نے ایم سی ڈی کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ لاوارث گائیوں کو مویشی کھانےمیں رکھے لیکن ایم سی ڈی اس میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اہل کاروں کا کہنا تھا کہ انہیں پکڑنا آسان کام نہیں ہے۔ عدالت عالیہ نے اس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ جو شخص ایک گائے ایم سی ڈی کے دفتر پہنچائےگا اسے دو ہزار روپے دیے جائیں گے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ پیسے ایم سی ڈی ملازمین کی تنخواہوں سے کاٹے جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||