تامل ناڈومیں بُل فائٹنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بُل فائٹنگ کو عموماً سپین کے حوالے سے جانا جاتا ہے لیکن بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں بل فائٹنگ کی طرز کا ایک کھیل تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ مقبولیت کے ساتھ ساتھ یہ کھیل دن بدن خطرناک بھی ہوتا جا رہا ہے۔ بل فائٹنگ یا ’جلی کٹو‘ نامی یہ کھیل تامل ناڈو کے قصبے مادورائی کے دو دیہاتوں میں خاصا مقبول ہے اور یہاں کے لوگوں کے مطابق یہ کھیل ان کی صدیوں پرانی روایت ہے۔ سینکڑوں بیل اکھٹے ایک بڑے میدان میں چھوڑے جاتے ہیں اور کھیل میں حصہ لینے والوں کو ان بپھرے ہوئے بیلوں کے سینگوں سے بندھے ہوئے انعامات اور قیمتی اشیاء کو اتارنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے کھلاڑی کو مست بیلوں کے نہ صرف قریب جانا ہوتا ہے بلکہ ان کے ساتھ لٹک کر انعام اتارنا ہوتا ہے۔
ایک چیز جو ’جلی کٹو‘ کو روایتی بل فائیٹنگ سے جدا کرتی ہے وہ یہ ہے بل فائیٹنگ کے برعکس آپ اس کھیل میں بیل کو ہلاک نہیں کر سکتے۔ تامل ناڈو میں یہ کھیل فصلوں کی کٹائی کے موقع پر ہونے والی تقریبات یا ’پونگال‘ کا ایک حصہ ہے۔ فکر مندی کی بات یہ ہے کہ اس سال اس کھیل کے دوران پانچ افراد ہلاک جبکہ دو سوسے زائد زخمی ہو گئے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہر سال حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں لیکن اس کھیل میں زخمی ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیلوں کو قابو میں لانا آسان نہیں ہوتا اور زیادہ دلیری دکھانے والے اور بےوقوف افراد ان کی زد میں آجاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کچھ بیلوں کومست کرنے کے لیے شراب بھی پلائی جاتی ہے۔ اور دوسرا یہ کہ چونکہ یہ کھیل اسٹیڈیم میں نہیں کھیلا جاتا اس لیے بپھرے ہوئے بیل میدان کے ارد گرد کھڑے تماشائیوں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کچھ نوجوان جو انعام سے محروم رہ جاتے ہیں بیلوں پر پتھر پھینکنا شروع کر دیتے ہیں جس سے مزید گڑ بڑ پھیلتی ہے۔ جانوروں کے حقوق کے علمبردار اس کھیل کے خلاف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کھیل کے دوران کئی بیل نہ صرف خوفزدہ محسوس کرتے ہیں بلکہ بری طرح زخمی بھی ہوجاتے ہیں۔ لیکن میلے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ کھیل ان کی ایک قدیم روایت ہے اور ان کے لیے مقدس ہے۔
رگوپتی نامی منتظم کے مطابق قدیم کتابوں میں اس کھیل کا ذکر ہے اور یہ تامل تہذیب کاایک اہم حصہ ہے۔ تامل ناڈو میں بل فائیٹنگ کی خبر جوں جوں پھیل رہی ہے علاقے میں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا اور ٹریول ایجنسیوں نے خصوصی پیکیج ترتیب دینا شروع کر دیے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||