BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 November, 2004, 02:18 GMT 07:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
News image
لوگ کہتے ہیں کہ جن گھروں کے دروازے ہوں ان پر آفتیں آتی ہیں
شمالی بھارت کے ایک گاؤں سیماہی کاری رات کے باسیوں کی زندگی اور جائیداد کو چوروں سے اس لیے کوئی خطرہ نہیں کہ ان کے خیال میں قدیم زمانے کے بزرگ شیئو بابا کی روح ان کی محافظ ہے۔

اور انہیں کون نقصان پہنچائے گا کہ روایت کے مطابق بابا نے انہیں کہا تھا کہ اپنے گھروں کے دروازے نہ رکھیں کہ دروازوں سے گھر والوں پر آفتیں ٹوٹتی ہیں۔

اتر پردیش کی ریاست کے شہر ایودھیا کے نزدیک اس گاؤں میں پچھہتر گھر ہیں لیکن کسی بھی گھر کا دروازہ نہیں ہے۔

گاؤں کے ایک شخص لال منی تیواری نے جن کی عمر اسی برس کے قریب ہے، بتایا کہ جب بھی کسی نے دروازہ بنا کر گھر میں لگایا وہ کسی نہ کسی آفت کا شکار ہوگیا۔ ’بار بار اس طرح کے واقعات کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ شیؤ بابا کو دروازے پسند نہیں ہیں۔

گاؤں کی چوپال میں مندر کے پروہت ترلوکی ناتھ گوسوامی نے شیؤ بابا کے بارے میں بتایا کہ سینکڑوں سال پہلے وہ یہاں رہتے تھے اور انہوں نے بڑی کٹھن تپسیا کی تھی۔ بابا کئی کئی دن تپسیا کی سختیاں جھیلا کرتے۔

’اسی استغراق میں ان کی وفات ہوئی اور برگد کا یہ پیڑ بالکل ٹھیک اس جگہ اُگ آیا جہاں ان کے پران نکلے تھے۔ ہم سوچتے ہیں کے ان کی آتما اس پیڑ کے اندر اب بھی موجود ہے۔‘

کہانی مشہور ہے کہ شیؤ بابا نے حکم دیا تھا کہ گاؤں میں کوئی گھر ایسا نہ بنے جس کی کچھ اینٹیں پہلے ان کے مندر کو دان نہ کی جائیں اور کسی گھر میں کواڑ نہ لگائے جائیں۔

گاؤں کے ایک اور شخص کرشن آچاریہ ترپاٹھی نے بتایا کہ ’میں نے گھر بنوانا شروع کیا تو بار بار دیواریں گر جاتیں۔ جب کئی بار ایسا ہو چکا تو کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ گھر کی تھوڑی سی اینٹیں لے جاکے برگد کو دان کردو۔میں نے یہی کیا اور پھر مکان بن گیا۔ لیکن میں نے خود ہی گھر میں دروازے نہیں لگواۓ کیونکہ بابا کا یہی حکم تھا۔‘

لال منی تیواری نے کہا کہ بڑے بزرگ ہمیشہ مہربان بزرگ ہوتے ہیں۔ ’گاؤں میں کسی سے بھی پوچھ لیجیۓ یہاں کبھی چوری چکاری نہیں ہوئی ہے۔ ہم سب با با کی حفاظت میں ہیں۔‘

اتر پردیش جیسی ریاست میں جو جرائم سے بھری پڑی ہے آخر یہ جگہ کیوں محفوظ ہے اس کا اور کیا جواب ہو سکتا ہے۔

اکبر پور پولیس تھانے کے انسپکٹر گورکھ ناتھ سنگھ نے انیس سو چھ تک کا ریکارڈ چیک کرکے کہا ’یہ کتابیں دیکھ لیجۓ آج تک سیما کاری رات میں ایک بھی چوری کی واردات ریکارڈ نہیں ہوئی ہے۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد