بھارت: میزبانی جا سکتی ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت 2010 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کی میزبانی سے ہاتھ دھو سکتا ہے اور اس کی وجہ ان کھیلوں کے انعقاد کی تیاریوں میں کی جانے والی تاخیر ہے۔ دولتِ مشترکہ کی کھیلوں کی فیڈریشن کے نائب صدر رندھیر سنگھ کا کہنا تھا کہ ان کھیلوں کے آرگنائزنگ کمیٹی کو 2003 میں تشکیل دے دیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’ نئی دہلی کھیلوں کی سلسلے میں اپنے اس شیڈول سے ایک سال پیچھے ہے جو میزبانی کے معاہدے کے موقع پر دیا گیا تھا۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ وزارتِ کھیل کی اس تاخیر کے نتیجے میں بھارت ان کھیلوں سے ہاتھ دھو سکتا ہے‘۔ رندھیر سنگھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ دولتِ مشترکہ کی کھیلوں کی فیڈریشن تین بار اپنی ڈیڈ لائن بڑھا چکی ہے لیکن بھارت کی جانب سے کوئی مثبت کوشش سامنے نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں کئی ادارے ان کھیلوں کے سلسلے میں اپنا کام شروع کر چکے ہیں مگر ان کھیلوں کے انعقاد کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ نئی دہلی نے ان کھیلوں کی میزبانی حاصل کرنے کے لیے کینیڈا کے شہر ہیملٹن کو بائیس کے مقابلے میں چھیالیس ووٹوں سے شکست دی تھی۔ بھارت ملائیشیا اور جمیکا کے بعد تیسرا ترقی پذیر ملک ہے جو ان کھیلوں کی میزبانی کرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||