جلنے والے بچے 93 سے زیادہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست تامل ناڈو کے سکول میں آتشزدگی کے واقعہ کے نتیجے میں سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق اب تک ہلاک ہونے بچوں کی تعداد 90 ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا کہ یہ تعداد اس سے میادہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ کچھ والدین اپنے بچوں کو نجی اسپتالوں میں بھی لے گئے ہیں اور ان کے بارے میں انہیں کچھ علم نہیں۔ اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد کم از کم 80 بتائی جا رہی تھی۔ جب کے شدید متاثت اس کے علاوہ تھی۔ مدراس سےصحافی رشیدہ بھگت کے مطابق یہ واقعہ ریاستی دارالحکومت سے تین سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع شہر کمبکونم میں پیش آیا جہاں کرشن پرائمری سکول میں مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے آگ لگ گئی۔ اطلاعات کے مطابق آگ پرائمری سکول کے باورچی خانے سے شروع ہوئی اور جس نے بعد خس کی بنی ہوئی چھت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
زخمیوں کو کمبکونم کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں ڈاکٹروں کے مطابق زیادہ تر بچیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ کمبکونم کا شہر اپنے خوبصورت اور قدیم مندروں کے لئے مشہور ہے۔ کرشن پرائمری سکول میں لوئر کنڈرگارٹن سے پانچویں کلاس تک کے نو سو کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق آتشزدگی کے وقت وہاں صرف تین سو بچے موجود تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||