| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ میں آتشزدگی
آج لاہور ہائی کورٹ کے ریکارڈ روم میں آگ لگنے سے پچاس سال پرانے مقدمات کی فائلیں جل کر تباہ ہوگئیں۔ دوپہر سوا دو بجے کے قریب عدالت عالیہ کی عمارت میں ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کے دفتر کے نیچے تہہ خانے میں واقع ریکارڈ روم میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تو عدالت عالیہ کے عملہ نے آگ بجھانے کے آلات سے اس پر قابو پانے کی کوشش کی اور تالہ توڑ کر کمرہ کھولا۔ تاہم آگ زیادہ پھیل جانے پر فائر بریگیڈ کا عملہ بلایا گیا جس نے ایک گھنٹہ سے زیادہ کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا۔ آگ اور بعد میں اسے بجھانے کے لیے پانی کے استعمال سے ریکارڈ روم میں رکھی فائلیں ضائع ہوگئیں جن کا تعلق ایسے مقدمات سے ہے جن کے فیصلے ہوچکے ہیں۔ ہائی کورٹ کے عملے کا کہنا ہے کہ اس کمرہ میں پچاس سال تک پرانے مقدمات کا ریکارڈ رکھا ہوا تھا۔ فائر بریگیڈ کے عملے کہ کہنا تھا کہ بظاہر آگ بجلی کی تاروں میں شارٹ سرکٹ ہونے سے لگی۔ تاہم عدالت عالیہ نے آگ لگنے کے اسباب جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||