BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 May, 2005, 02:49 GMT 07:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بوڑھےشیروں کی پناہ گاہ
شیر
شیروں کی اس نسل کو باگھ کہتے ہیں
بھارت میں سندر بن کے جنگلوں میں پائے جانے والے شیروں کے لیے جو اپنے لیے خود شکار کرنے کے قابل نہیں رہتے پناہ گاہیں بنائی جارہی ہے۔

جنگلوں کی دیکھ بھال پر مامور عملے کا کہنا ہے کہ یہ پناہ گاہیں بھارت میں شیر کی نسل سے تعلق رکھنے والے جانور باگھ یا ٹائیگر کی کم ہوتی ہوئی تعداد کے پیش نظر بنائی جا رہی ہے تاکہ ان کی تیزی سے کم ہوتی ہوئی تعداد کو روکا جا سکے۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق بھارت میں ان شیروں کی تعداد تین ہزار سات سو کے قریب رہ گئی ہے جب کہ جنگلی حیات سے معتلق تنظیموں کا خیال ہے کہ یہ تعداد دوہزار کے قریب ہے۔

سندر بن کے جنگلوں کی حفاظت پر مامور عملے کے ایک اعلی اہلکار کا کہنا ہے کہ بوڑھے اور بیمار شیروں کو ان پناہ گاہوں میں لایا جائے گا تاکہ وہ خود کسی حادثے کا شکار نہ بن جائیں یا انہیں شکار نہ کر لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مراکز ایسے ہی ہوں گے جیسا کے عمر رسیدہ شہریوں کے لیے شہروں میں قائم کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان پناہ گاہوں کو بالکل قدرتی انداز میں بنایا جائے گا تاکہ شیروں کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ کسی قید میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی چڑیا گھر نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ بوڑھے اور بیمار شیر اکثر شکار کی تلاش میں قریبی دیہات کی طرف نکل جاتے ہیں جنہیں دیہاتی اپنی اور اپنے جانوروں کی حفاظت کے لیے مار دیتے ہیں یا پھر یہ شیر غیر قانونی طور پر شکار کرنے والوں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا ان مراکز میں زخمی اور بیمار شیروں کا علاج کیا جائے گا اور صحت یاب ہونے پر انہیں دوبارہ جنگل میں چھوڑ دیا جائے گا۔

سندر بن کے جنگلات کے قریب واقع دیہاتوں میں ہر سال پانچ سے چھ افراد ان شیروں کی غذا بن جاتے ہیں اور کبھی کبھار یہ تعداد اس سے زیادہ بھی ہو جاتی ہے۔

مشرقی بھارت اور بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں سندر بن کے جنگلات دس ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلے ہوئے ہیں۔

گزشتہ سال کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق بھارت کے حصہ میں پائے جانے والے شیروں کی تعداد صرف دو سو پچھتر تھی۔ ان جنگلات میں سمندر کے کھارے پانی میں پائے جانے والے نایاب مگر مچھ اور دریائی ڈالفن بھی پائی جاتی ہیں۔

گزشتہ ماہ وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ایک ٹاسک فورس کی تشکیل کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد ملک بھر میں قائم جانوروں کی پناہ گاہوں کی انتظامیہ کا جائزہ لینا تھا۔ یہ ٹاسک فورس ان خبروں کے بعد تشکیل دی گئی تھی کہ ہر سال بھارت میں سو کے قریب شیروں کا شکار کر لیا جاتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد