کلکتہ: ہتھ رکشے نہیں چلیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست مغربی بنگال کے وزیرِاعلیٰ نے اعلان کیا ہے کہ کلکتہ کے مشہورِ زمانہ ہتھ رکشوں پر جلد ہی پابندی لگا دی جائےگی۔ وزیرِاعلیٰ بدھا دیو بھٹاچاریا کا کہنا ہے کہ ان رکشوں کو ایک عرصے سے ’غیر انسانی‘ سمجھا جاتا ہے اور یہ کسی اور جگہ موجود بھی نہیں ہیں۔ بدھا دیو بھٹاچاریا نے کہا کہ’ ہم نے انسانی بنیادوں پر کلکتہ کی سڑکوں سے ان رکشوں کو ہٹانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ دنیا میں کسی اور جگہ ایسے رکشے نہیں ہیں اور ہمارے خیال میں انہیں کلکتہ میں بھی نہیں ہونا چاہیے‘۔ مغربی بنگال کے وزیرِاعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکام متبادل ذرائع آمدورفت پر غور کر رہے ہیں تاکہ ان رکشوں پر پابندی سے انہیں کھینچنے والوں اور مسافروں پر اثر نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ’ اس کام کے لیے تربیت اور رقم کی ضرورت ہے اور اس برس کے آخر تک تمام رکشے سڑک سے ہٹا لیے جائیں گے‘۔ ایک غیر سرکاری تنظیم ایکشن ایڈ انڈیا کی جانب سے لیے جانے والے حالیہ جائزے میں ہتھ رکشہ چلانے والے افراد کی تعداد اٹھارہ ہزار بیان کی گئی ہے اور اس میں سالانہ اٹھارہ سو افراد کا اضافہ ہوتا ہے۔
کلکتہ کے بہت سے شہری متذبذب ہیں کہ کیا وہ مون سون کے موسم میں شہر کی تنگ گلیوں میں ان ہتھ رکشوں کے بناء سفر کر سکیں گے یا نہیں۔ شمالی کلکتہ کی گھریلو خاتون دیپالی ناتھ کا کہنا تھا کہ’ جب گلیوں میں سینے تک پانی بھر جاتا ہے تو ان گلیوں میں آمدو رفت کا کوئی اور ذریعہ کام نہیں کرتا اور ہتھ رکشے ہی عوام کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہیں‘۔ مقامی ٹریڈ یونینیں بھی ان رکشوں کو کھینچنے والوں کے لیے ان کے لائسنسوں کی منسوخی سے قبل معاوضے کی فراہمی اور متبادل روزگار کے بندوبست کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ایک کمیونسٹ پارٹی رہنما محمد نظام الدین کا کہنا تھا کہ ’ ہمیں امید ہے کہ حکومت نہ ان افراد کو سڑک پر آنے پر مجبور کرے گی اور نہ ہی انہیں بھوکا رہنے دے گی‘۔ یہ رکشے’سٹی آف جوائے‘ جیسی فلموں میں آنے کے بعد کلکتہ کی لافانی پہچان تصور کیے جاتے ہیں۔ برصغیر میں یہ ہاتھ سے کھینچے جانے والے رکشے انیسویں صدی میں چین سے آئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||