BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 January, 2005, 13:36 GMT 18:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یہ بنگالی کے بس کی بات نہیں‘

کلکتہ کے رکشہ بان
انگریزی فلم ’سٹی آف جوائے‘ انہی کی زندگی پر مبنی ہے
کلکتہ میں آنے والا ہر سیاح دلچسپی سے انکی تصویریں اتارتا ہے۔ وہ اپنے چہرے اور جسامت ہی سے پہچانے جاتے ہیں۔ دبلے پتلے، دھنسے ہوئے گال، پتلی پتلی ٹانگیں اور سرخ سرخ آنکھیں۔ یہ ہاتھ سے رکشہ کھینچنے والے جفاکش لوگ ہیں۔ ان کی شہرت دنیا بھر میں ہے اور ایک کتاب اور انگریزی فلم ’سٹی آف جوائے‘ انہی کی زندگی پر بنی ہے۔

ان میں سے ایک ساٹھ سالہ دھرمیندر سنگھ بھی ہے جو ایک عرصہ سے کلکتہ میں رکشہ کھینچ رہا ہے۔ وہ آئی کام پاس ہے۔

’میں نے انیس سو باسٹھ میں حاجی پور بہار کے آر این کالج سے انٹر کیا پھر ٹاٹا فیکٹری میں سات روپے ماہوار پر کام کرنے لگا۔ سستا زمانہ تھا آرام سے گزر بسر ہوجاتی تھی۔‘

بد قسمتی سے دھرمیندر سنگھ کی بہن کو اسکے سسرال والوں نے کسی ناچاقی پر اتنا مارا کے وہ چل بسی۔ اس صدمہ سے دھرمیندر سنگھ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا۔ نوکری بھی چلی گئی۔

’علاج معالجے سے ٹھیک تو ہوگئے مگر نوکری نہیں ملی۔ کلکتہ میں کچھ جاننے والے تھے انہوں نے بلایا۔ یہاں پر مزدور کا کام ہی ملا۔ پھر ہم نے رکشہ چلانا شروع کردیا کہ اس میں پیسے زیادہ تھے۔‘

دھرمیندر سنگھ دس سے بارہ گھنٹے سڑکوں پر رہتا ہے اور ڈیڑھ سے دو سو روپیہ کما لیتا ہے۔ اسکا ذاتی خرچہ پندرہ سے اٹھارہ سو روپیہ ماہوار ہے۔ وہ ایک کمرے میں بہت سے رکشہ والوں کے ساتھ 150 روپے مہینے پر رہتا ہے۔ کھانا پینا اور تاڑی (گھٹیا معیار کی دیسی شراب) پر اسکا 50 سے 60 روپیہ روزانہ کا خرچ ہے۔ اسکے چھ بچے ہیں جو کہ بڑے ہوگئے ہیں۔

’سب کو ہم نے پڑھایا ہے کسی کو رکشہ والا نہیں بنایا ہے۔ وہ سب کچھ نہ کچھ کام کرتے ہیں۔ بیوی کو ہم ہزار روپیہ ماہانہ بھیج دیتے ہیں۔‘

دھرمیندر نے کہا کہ اسکا ہاتھ پیر درد کرتا ہے۔ اب وہ بوڑھا ہوگیا ہے۔ لیکن وہ آخری دم تک رکشہ چلائےگا ۔

’اور کیا کریں اسی میں دکھ بھی ہے اور اسی میں سکھ بھی ہے۔‘

دھرمیندر نے بتایا کہ اسے کوئی تکلیف ہو تو وہ ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتا تاڑی پی لیتا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ رکشہ والے تاڑی پینے کے لئے بہت بدنام ہیں۔ وہ کیوں اتنا تاڑی پیتے ہیں۔ اور کیا تاڑی پینے کے بعد رکشہ چلانے میں انہیں مشکل نہیں ہوتی۔

پاس میں کھڑی شانتی دیوی ہماری باتیں سن رہی تھی۔ وہ بولی: ’ہمری بھی تو کچھ سنو۔‘

شانتی دیوی کا میاں رکشہ کھینچتا ہے۔ شانتی کی شادی بارہ سال کی عمر میں ہوگئی تھی۔ اور اسکا رکشہ چلانے والا میاں اسے گاؤں سے کلکتہ لے آیا۔ اور وہ دونوں مل کر فٹ پاتھ پر رہنے لگے۔ شانتی مزدوری کرتی ہے کیونکہ بقول اسکے اسکا میاں اسے زیادہ پیسہ نہیں دیتا۔ سارا پیسہ شراب میں اڑادیتا ہے۔ ’رکشے والے کی جورو بننا آسان نہیں‘، اس نے بیچارگی سے کہا۔

شانتی اپنا سارا سامان موٹھری میں باندھ کر رکھتی ہے۔ کام پر جاتی ہے تو کسی دوکاندار سے التجا کرتی ہے کہ وہ اسکے سامان کی دیکھ بھال کرے۔ شام کو پولیس والے انہیں فٹ پاتھ پر رہنے پر تنگ کرتے ہیں۔ ’پولیس سے ہم آنکھ مچولی کھیلتے ہیں۔ پکڑے گئے تو چالیس پچاس روپیہ رشوت میں دینے پڑتے ہیں۔‘

شانتی دیوی کا ایک بیٹا ہے۔ جو ٹیکسی چلاتا ہے۔ لیکن والدین کو وہ ایک پیسہ بھی نہیں دیتا۔ ’ارے وہ جیادہ ( زیادہ) کماتا ہے تو جیادہ ( زیادہ ) سراب
( شراب ) پیتا ہے۔ ہمکو کاہے کو پیسہ دے گا۔‘

گوپال پاسوان دربھنگہ بہار سے پانچ سال پہلے رکشہ چلانے کی غرض سے آیا۔ پہلے وہ کھیت میں مزدوری کرتا تھا۔ وہ بہت محنت کرتا ہے۔ اور دو سو سے تین سو روپے روزانہ کماتا ہے۔ دیکھنے میں وہ پچاس سال سے کم نہیں لگتا لیکن وہ قسمیں کھاتا ہے کہ اسکی عمر چالیس سال ہے۔ شاید بے جا مشقت سے بڑھاپا جلد آگیا ۔ اسکے گھر میں پندرہ لوگ ہیں۔ جن کی وہ اکیلے کفالت کرتا ہے۔

گوپال پہلے دہلی میں سائیکل رکشہ چلاتا تھا۔ اسے ہاتھ سے رکشہ کھینچنا زیادہ آسان لگتا ہے۔ دہلی کے لوگوں کی وہ تعریف کرتا ہے کہ بہت دلدار ہیں اور پیسے زیادہ دیتے ہیں۔ کلکتہ والے کنجوس ہیں بہت بھاؤ تاؤ کرکے رکشہ میں بیٹھتے ہیں۔

کلکتہ میں اسی فیصد رکشہ والے بہاری ہیں۔ اسکی وجہہ دھرمیندر نے بہت فخریہ بتائی: ’رکشہ کھینچنا بنگالی کے بس کی بات نہیں یہ تو صرف ہم بہاری کرسکتے ہیں۔‘

گوپال پاسوان نے فلسفی کی طرح کہا: ’بہار نے ہمکو دیا ہی کیا ہے سوائے بھوک کے۔ کلکتہ میں بہاری رکشہ چلاتے ہیں کہ یہاں انکے نصیب کی روٹی ملتی ہے۔‘

کلکتہ کے یہ رکشہ والے ایک ختم ہونے والی نسل کی طرح ہیں۔ انکی تعداد ہر سال کم ہورہی ہے۔ حکومت بھی اکثر اس پیشے پر پابندی کا سوچتی ہے لیکن دھرمیندر اور گوپال کو فکر نہیں۔ وہ کہتے ہیں جب تک کولکتہ میں بارش ہوگی رکشہ چلے گا کیونکہ یہاں کے پانی کے نکاس کا نظام بہت خراب ہے۔

بہارپیسہ وبالِ جان بھی
بہار میں پیسہ وبالِ جان کیسے بن جاتا ہے؟
معذورں کا گاؤں
جھاڑکنڈ کے قریب ایک گاؤں میں ہر شخص معذور
ممبئی فیسٹیولممبئی فیسٹیول
خوابوں کے شہر میں کلچرل فیسٹیول شباب پر
تامل بُل فائٹنگ
تامل ناڈو کےروایتی کھیل کی مقبولیت میں اضافہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد