بہارمیں کروڑپتی ہونے کی بھاری قیمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پٹنہ میں مقیم ٹھیکہ دار کامران خان ( انکا یہ اصلی نام نہیں ہے ) کو آجکل سب سے زیادہ دشواری یہ ہے کہ وہ ایک کروڑپتی ہیں۔ معمولی سی گاڑی چلاتے ہیں، ایک فلیٹ میں رہتے ہیں اور اب نماز کی پابندی اور قرآن کا مطالعہ بھی شروع کردیا ہے۔ اسکی وجہ رات کے سناٹے میں موبائل فون پر ایک کال کا آنا تھا۔ یہ سلطان میاں کا فون تھا۔ جو بہار جیل میں لوگوں کو دھمکا کر روپے اینٹھنے کے جرم میں بند ہیں۔ سلطان میاں نے بہت ادب سے سات لاکھ روپیہ مانگے تھے۔ نہ دینے کی صورت میں مالک حقیقی سے جلد ملانے کی خوشخبری یا دھمکی دی تھی۔ گھر والوں کے دباؤ میں آکر کامران نے سلطان میاں کو یہ رقم بھیج دی۔ پھر یہ سلسلہ ہر کچھ عرصہ بعد چلنے لگا۔ سلطان میاں بقول شخصے بہار کے مشہور ممبر پارلیمان شہاب الدین کے خاص کارندے ہیں۔شہاب الدین بہار کے مسلمانوں میں اس لئے مقبول ہیں کہ وہ مسجدوں اور مدرسوں کی تعمیر کے لئے بہت پیسے دیتے ہیں۔ لیکن تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ سب ڈھکوسلہ ہے۔ جرائم چھپانے کا۔
کچھ مہینوں کے لئے کامران نے سکون کا سانس لیا لیکن پھر سے فون آنے لگا۔ فون کرنے والا صرف دھمکی دیتا ہے اور پیسے پہنچانے کی جگہ بتاتا ہے۔ ’ہم نے اپنا موبائیل بند کردیا تو میرے والدین کے گھر دھمکی والا فون جانے لگا‘۔ ان حالات سے کامران اتنے پریشان ہیں کہ انہوں نے ٹھان لی ہے کہ وہ 2005 میں ٹھیکہ داری چھوڑ دینگے۔ ’آج سے دس سال پہلے میں نوکری کرتا تھا۔ کئی سالوں میں جاکر 25,000 روپیہ جمع کیے تھے جس سے اپنا ٹھیکہ داری کا کاروبار شروع کیا تھا۔ پہلا منافع 2500 روپیہ تھا۔ بہت پیسے کمالیے ہیں وہ کافی ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ کلکتہ چلے جائیں گے وہاں کوئی چھوٹا موٹا دوسرا کاروبار کرلیں گے اگر زندہ بچے تو۔ دراصل بہت سے پراجیکٹ پر کام ہورہا ہے اسلیے فورًا جا نہیں سکتے۔‘ بہار میں جو امیر ہوا وہ پھنسا۔ بہت سے تاجروں نے اپنا کاروبار بہار سے کہیں اور منتقل کردیا۔ جو یہاں کام کررہے ہیں وہ باضابطہ ہر مہینے کسی جرائم پیشہ کو پیسے دیتے ہیں۔ کم ہی ہیں جو کامران کی طرح آیت الکرسی پڑھ کر بغیر حفاظتی گارڈز کے اللہ کا نام لیکر روزآنہ کام پر جاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||