دلی میں ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ ایک دن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹیکسی ڈرائیور دنیا کے بڑے شہروں کو سب سے زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں۔ بی بی سی نے دنیا کے مختلف شہروں میں ٹیکسی ڈرائیوروں سے ان کے کام، شہر اور ان کے مسائل کے بارے میں بات چیت کی ہے۔ دلی میں بی بی سی کی صحافی گیتا پانڈے سنیتا چوہدری کے آٹو رکشہ میں بیٹھ کر شہر گھومتی ہیں اور ان سے بات چیت کرتی ہیں: آج ناقابل برداشت گرمی ہے۔ سورج سر پر چمک رہا ہے۔ ایک پچیس سالہ عورت سنیتا چوہدری اپنے آٹو رکشہ کو سٹارٹ کر رہی ہیں۔ کئی کوششوں کے بعد انجن میں زندگی آتی ہے اور رکشہ چل پڑتا ہے۔ سنیتا معذرت کرتے ہوئے کہتی ہے ’یہ میرا رکشہ نہیں ہے۔ میں یہ تین سو روپے (ساڑھے چھ ڈالر) کرایہ پر لیا ہوا ہے‘۔ سنیتا ڈیڑھ سال سے دلی کی سڑکوں پر رکشہ چلا رہی ہیں اور وہ شہر میں واحد خاتون رکشہ ڈرائیور ہیں۔چونکہ یہ پہلی دفعہ ہوا ہے اس لیے سنیتا کو رکشہ چلانے کے لیے لائسنس لینے میں خاصی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ ’افسران نے مجھے کہا کہ ہم تو عورتوں کو لائسنس نہیں دیتے اس لیے آپ کو کیسے دے دیں۔ مجھے دو سال تک ان سے لڑنا پڑا جس کے بعد مجھے لائسنس ملا‘۔ انہوں نے بتایا کہ اس نے دوسرے ڈرائیوروں کے غلط رویے کی وجہ سے آٹو رکشہ ڈرائیور بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا: ’دلی میں بہت سے حادثے ہوتے ہیں۔ اور میں جب کسی زخمی کو سڑک پر دیکھتی ہوں تو میں اسے ہسپتال پہنچانا چاہتی ہوں۔ اس وجہ سے میں اکثر رکشہ ڈرائیوروں کے ساتھ جھگڑتی تھی کیونکہ وہ کسی مسئلے میں پڑنا نہیں چاہتے۔ تو میں نے سوچا اگر میں خود رکشہ چلا رہی ہوں تو میرے لیے آسانی ہوجائے گی‘۔ سنیتا نے کاغذوں کا ایک پلندہ دکھایا جو مختلف ہسپتالوں میں ان زخمیوں کے ریکارڈ ہیں جن کی انہوں نے مدد کی تھی۔ اپنے اس پیشے میں آنے پر دوسرے رکشہ ڈرائیوروں کے رد عمل کا سوچ کر وہ ہنس دی۔انہوں نے کہا ’وہ واقعی خوف زدہ تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر عورتوں نے رکشے چلانے شروع کر دیے تو ہمارا کیا بنے گا۔ ہمارے رکشوں میں تو کوئی نہیں بیٹھے گا‘۔ مگر سنیتا کا کام آسان نہیں اور دلی کی ٹریفک میں چلانا کوئی مذاق نہیں۔ لیکن وہ اس سے ذرا بھی نہیں گھبراتی اور بڑی مہارت سے شہر کی سڑکوں پر چلاتی ہے۔ انہوں نے کہا سواریوں کے معاملے میں انہوں نے کھبی کسی بھی صنف کو ترجیح نہیں دی لیکن وہ زنانہ سواریاں اٹھانا زیادہ پسند کرتی ہیں۔انہوں نہ بتایا ’عورتیں کہتی ہیں کہ میرے ساتھ سفر کرتے ہوئے وہ زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہیں اس لیے کہ میں نہ تو شراب اور نہ ہی سگریٹ پیتی ہوں۔ وہ کہتی ہیں کہ کئی دفعہ مرد رکشہ ڈرائیور شراب کے نشے میں بہت خوفناک طریقے سے رکشہ چلاتے ہیں۔ میرے ساتھ وہ رات کو بھی سفر کرتے ہوئے محفوظ محسوس کرتی ہیں‘۔ گو دلی میں عورتوں پر حملے روزانہ کا معمول ہے سنیتا رات کو بھی کام کرنے سے نہیں گھبراتی۔ وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں: ’میں ویسے بھی لڑکا لگتی ہوں۔ میں جینز اور شرٹ پہنتی ہوں اور بال چھوٹے رکھتی ہوں۔ راتوں کو اکثر مسافر کہتے ہیں کہ بھائی مجھے فلاں فلاں جگہ لے چلو۔لڑکا لگنے میں میرا فائدہ ہے۔ بےشک میں عورت ہوں لیکن مردوں سے زیادہ بہادر ہوں‘۔ اور اب وہ اس بہادری کا امتحان لینے جا رہی ہیں۔ وہ سیاست میں قدم رکھ چکی ہیں۔ پچھلے سال انہوں نے دلی سے اسمبلی کا انتخاب لڑا اور ہار گئیں۔ انہیں پینتھر پارٹی نے نامزد کیا تھا۔ لیکن ان ناکامیوں کے بعد بھی وہ حوصلہ نہیں ہاری اور ان کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ کوشش کریں گی۔ انہوں نے کہا: ’سیاست دان اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔ اگر میں جیت جاتی ہوں تو پولیس میری عزت کرے گی‘۔ سنیتا نے کہا کہ ’اگر وہ غلطی سے کسی کو حراست میں لیتے ہیں تو میں اپنا اثر ورسوخ استعمال کر سکتی ہوں اور انہیں میرا کہنا ماننا ہوگا۔ اور میں لوگوں کے فائدے کے لیے کام کروں گی‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||