’نچلی ذات کی خواتین پر ظلم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی مشرقی ریاست اڑیسہ کی پولیس ان انتیس آدمیوں کو تلاش کر رہی ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ذات پات کے ایک جھگڑے میں خواتین کے ایک گروہ کو برہنہ ہو کر چلنے پر مجبور کیا۔ قصبے بھوانیشور سے ستر کلو میٹر دور بھواناپتی گاؤں کی چھ خواتین کا کہنا ہے کہ اونچی ذات کے کچھ افراد نےان کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا، مارا پیٹا اور برہنہ ہو کر چلنے پر مجبور کیا۔ نائی ذات سے تعلق رکھنے والی ان خواتین نے بتایا کہ ان کے خاندان والوں کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ ان کے خاندان کےایک فرد نے اونچی ذات والوں یعنی کھنڈایت میں ہونے والی شادی کی ایک تقریب میں مہمانوں کے پاؤں دھلوانے سےانکار کر دیا تھا۔ مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کے ذمہ داروں کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی موثر قدم نہ اٹھانے پر حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس خطے میں پاؤں دھلوانے کی رسم گزشتہ تین سالوں سے تناؤ کا باعث بنتی رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||