بھارت: نو فوجی، چھ باغی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ شمال مشرقی ریاست منی پور میں جھڑپوں کے دوران کم از کم نو بھارتی فوجی اور چھ باغی ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ فوجی دو الگ الگ حملوں میں ہلاک ہوئے جبکہ جنوبی منی پور میں دو باغی گروہوں کے درمیان لڑائی میں چھ باغی ہلاک ہوئے۔ بھارتی فوج پر پہلا حملہ ریاستی دارالحکومت امپہال سے تیس کلومیٹر دورنریانگ کے مقام پر ہوا۔ بھارتی فوج کے ترجمان کرنل ایس ڈی گوسوامی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایلیٹ گورکھا رائفلز کی گشتی پارٹی پر ایم پی ایل ایف کے باغیوں نے اس وقت شدید فائرنگ کی جب وہ فوج کی نقل و حمل کے لیے راستے کا جائزہ لے رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’باغیوں کی اکثریت والے علاقے میں فوجی اور دیگر گاڑیاں صرف اس وقت گزرتی ہیں جب باغی انہیں روکنے کی کوشش نہیں کرتے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ باغیوں نے فوجیوں پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی اور دستی بم پھینکے۔ منی پور پیپلز لبریشن فرنٹ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اس نے آسام کی سرحد کے قریب جیر گھاٹ میں ایک اور حملہ بھی کیا ہے جس میں ایک فوجی ہلاک ہوا ہے۔ منی پور پیپلز لبریشن فرنٹ ریاست منی پور کے تین طاقتور باغی گروپوں سرپرست جماعت ہے۔ ادھر منی پور کے جنوبی علاقے چرن چندا پور میں زومی انقلابی فرنٹ اور زومی لبریشن آرمی نامی دو باغی گروہوں میں تصادم کے نتیجے میں زومی انقلابی فرنٹ کے چھ ارکان مارے گئے۔ یہ دونوں گروہ زومی قبیلے کے مفادات کے تحفظ کا دعوٰی کرتے ہیں۔ زومی انقلابی فرنٹ نے بھارتی فوج کے خلاف کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسرے گروہ نے لڑائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ منی پور میں دس سے زیادہ شدت پسند گروہ سرگرم ہیں اور بھارتی فوج سنہ 2005 کے آغاز سے ہی ریاست منی پور میں دہشت گردی اور شدت پسندی کو کچلنے کیلیے آپریشن میں مصروف ہے تاہم باغیوں کا کہنا ہے کہ نہ صرف ان کے تمام ٹھکانے محفوظ ہیں بلکہ وہ جوابی حملے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||