 | | | ہیماوتی ویملادوی گاؤں کے ایک غریب مچھیرے کی بیوی اور تین بچوں کی ماں ہے |
اگر چھتیس سالہ باسونی ہیماوتی موت کے چنگل سے چھوٹ کر آئی ہے اور اب ایک نارمل اور صحتمند اور جدوجہد سے بھرپور زندگی بسر کرنے کے قابل ہے تو وہ اس کے لیئے اپنی جیسی لگ بھگ سوا لاکھ غریب دیہاتی عورتوں کی ممنون اور مشکور ہے۔ ہیماوتی مغربی گوداوری ضلع کے ویملادوی گاؤں کے ایک غریب مچھیرے کی بیوی اور تین بچوں کی ماں ہے اور ابھی کچھ ہفتے پہلے تروپتی میں دل کا ایک بڑا آپریشن کرواکے لوٹی ہے۔ لیکن ایک لاکھ روپے کا آپریشن اس عورت کے لیئے آسان نہیں تھا اور اِسے ممکن بنایا اسی ضلع کی ان عورتوں نے جو چھوٹی بچت اور ’اپنی مدد آپ‘ گروپ چلاتی ہیں۔ ان گروپوں سے وابستہ دیہاتی عورتوں میں سے ہر ایک نے فی کس صرف پچاس پیسے کا چندہ دیکر ہیماوتی کےلیئے ساٹھ ہزارروپے کی خطیر رقم جمع کی اور ایک نئی تاریخ بنائی۔ اور اسی رقم کی بدولت ہیماوتی اپنے دل کے مرض کا علاج کرواسکی۔ لیکن جد و جہد اور کامیابی کی یہ کہانی یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ اس نے ان حوصلہ مند غریب دیہاتی عورتوں کےلیئے نئے امکانات کے دروازے کھول دیۓ اور ان عورتوں کو یہ احساس ہوا کہ وہ ہاتھوں میں ہاتھ تھام کر اور بھی بہت کچھ کرسکتی ہیں۔ چنانچہ ایک دوسرے کی مدد کے اسی جذبے کے ساتھ مغربی گوداوری ضلع کی خواتین کے اپنی مدد آپ گروپ کے ارکان نے اپنا ایک سوشل سیکوریٹی فنڈ قائم کرلیا ہے۔ مغربی گوداوری ضلع میں خواتین کے ایسے کوئی چالیس ہزار پانچ سو گروپ ہیں جس کے ارکان کی تعداد چار لاکھ ہے۔ اب ان سب ہی خواتین نے ہر مہینہ فی کس ایک روپیہ کا عطیہ دیکر سال بھر میں اڑتالیس لاکھ روپے کا فنڈ جمع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے-  | | | دھرا پردیش میں خواتین کے ایسے کوئی آٹھ لاکھ گروپ ہیں | ان گروپوں کے ضلعی فیڈریشن کی سربراہ مس رگھوپتی کا کہنا ہے کہ اس فنڈ سے خواتین کی ہنگامی ضروریات پوری کی جائینگی اور ہیماوتی جیسی عورتوں کی مدد کی جائیگی۔اس فنڈ نے اپنے سامنے جو مقاصد رکھے ہیں اس میں بڑے امراض کے علاج کےلیئے کسی خاتون رکن یا اس کے شوہر کو دس ہزار روپے دینا اور اس کےلیئے سفر خرچ فراہم کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی کی موت ہوجاتی ہے تو سوگوار خاندان کو بھی دس ہزار روپے کی فوری امداد دی جائیگی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے جو مقصد طے کیا ہے وہ ان کم پڑھی لکھی عورتوں کے سماجی شعور کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ لڑکیوں کی نسل کشی کو روکنے کےلیئے بھی ان عورتوں نےاس فنڈ کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔ چنانچہ جس گھر میں بھی لڑکی کی پیدائش ہوگی اسے ایک ہزار روپے کی ایک وقتی امداد دی جائیگی اور اگر کوئی جوڑا ایک لڑکی کی پیدائش کے بعد خاندانی منصوبہ بندی کا آپریشن کروانے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس فنڈ سے دو ہزار روپے ملیں گے۔ یہ اقدام اس لیئے اہم ہے کہ ہندوستان میں لڑکیوں کی پیدائش کو روکنا اور رحم مادر میں جنس کا پتہ لگا کر لڑکیوں کا حمل ضائع کردینا ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے اور اس کے نتیجے میں عورتوں اور مردوں کی شرح آبادی میں فرق بڑھتا جارہا ہے۔ سوشل سکیورٹی فنڈ قائم کرنے کے دیہاتی عورتوں کے اس اقدام کی خود سرکاری حلقوں سے کافی ستائش ہوئی ہے۔ مغربی گوداوری ضلع کے کلکٹر لواگروال جنھوں نے ہیماوتی کی امداد کے لیئے خواتین کو متحرک کیا تھا کہتے ہیں کھ اس سے ان عورتوں کی خود اعتمادی بڑھی ہے اور حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ ویسے آندھرا پردیش میں خواتین کی اپنی مدد آپ گروپوں کا یہ نیٹ ورک دس سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ دیہی علاقوں کی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور اپنے پیروں پر کھڑے کرنے کے لیئے یہ گروپ بناۓ گئے تھے اور ان میں یومیہ ایک روپ کی بچت کے ذریعہ فنڈ جمع کرنے کی عادت کو پروان چڑھایا گیا تھا اور اب یہ ملک میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا نیٹ ورک بن گیا ہے۔ آندھرا پردیش میں خواتین کے ایسے کوئی آٹھ لاکھ گروپ ہیں جن کے ارکان کی تعداد اسی لاکھ سے بھی زیادہ ہے ان کے پاس تین ہزار کروڑ روپے سے بھی زیادہ کی مجموعی رقم موجود ہے جسے وہ اپنی معاشی سرگرمیوں اور گھریلو مصنوعات کی تیاری اور فروخت کے کاموں میں لگاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ گروپ اپنے ارکان کو ڈیری فارمنگ ، پولٹری فارمنگ اور ایسے ہی دوسرے کاموں کے لیئے قرض بھی دیتے ہیں۔ |