بہار: پچاس فیصد خواتین سرپنچ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گھر کی چار دیواری سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی ایسی مثال بہت کم دیکھنے کو ملے گی جس کے لیئے فی الوقت بہار میں انتخابی عمل جاری ہے۔ یہ ایک اندرا گاندھی یا ایک رابڑی دیوی کی کہانی نہیں بلکہ قریب چار ہزار پنچایتوں کی انتظامی سربراہ کی داستان لکھی جانے والی ہے۔ عرف عام میں انہیں مکھیا کہا جاتا ہے۔بہار میں قریب آٹھ ہزار گاؤں کی پنچایتیں ہیں۔ اسی تعداد میں مکھیا اور سرپنچ کا انتخاب ہونا ہے۔ جنسی اعتبار سے اقتدار کی منتقلی کے اس وسیع عمل کو اس بات سے سمجھا جا سکتا ہے کہ پانچ سال قبل منعقدہ انتخاب میں مرد مکھیا کی تعداد سات ہزار چھ سو اٹھائیس تھی جبکہ خواتین مکھیا کی تعداد محض اٹھہتر تھی۔ اس طرح گاؤں کی پنچایتوں کے اقتدار میں عورتوں کا تناسب بمشکل ایک فیصد تھا۔ اس بار یہ تناسب ایک فی صد سے کم از کم پچاس فیصد ہونے جا رہا ہے کیوں کہ ریاستی حکومت نے پنچایتوں کی سبھی نششتوں کا پچاس فیصد عورتوں کے لیئے مخصوص کر دیا ہے۔ اس سے قبل عورتوں کے لیئے ریزرویشن کا تناسب تینتیس فی صد تھا مگر یہ ریزرویشن مکھیا اور سرپنچ جیسی واحد نشست کے لیِئے قابل عمل نہ تھا۔
ریاستی الیکشن کمشنر مسٹر ڈی پی مہیشوری کے مطابق پہلے دو مرحلوں میں مکھیا کی تین ہزار چونتیس نششتوں کے لیئے انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان مرحلوں میں کم از کم ایک ہزار تین سو چھہتر نشستوں پر عورتوں کا مکھیا بننا طے ہے۔ پنچایتوں کے لیئے سہ سطحی انتخاب ہوتے ہیں اور بہار میں دو مئی سے بیس مئی تک آٹھ مرحلوں میں قریب ڈھائی لاکھ نششتوں کے لیئے انتخابات ہو رہے ہیں ہیں۔ سنہ دو ہزار ایک میں ہونے والے الیکشن میں قریباً پینتالیس ہزار خواتین مختلف نشستوں کے لیِئے منتخب ہوئی تھیں اور اس بار یہ تعدار قریب سوا لاکھ ہو جائےگی۔ حکومت کی کوششوں کے متعلق وزیرِ اعلٰی نتیش کمار کہہ چکےہیں کہ پنچایتی راج میں عورتوں کی نمائندگی بڑھنے سے اس ادارے کی کار کردگی بہتر ہوگی کیوں کہ وہ زیادہ سنجیدہ مزاج ہوتی ہیں۔حکومت کی اس کوشش سے عورتیں کتنی مقتدر ہوں گی اس کا فیصلہ تو ابھی ممکن نہیں البتہ مشاہدہ میں یہ بات ضرور آ رہی ہے کہ جن نششتوں پر مرد مکھیا تھے اور وہ سیٹ عورتوں کے لیئے مختص کر دی گئی تو وہاں مکھیا جی نے اپنی بیوی کو امیدوار بنا دیا۔ ریاست میں پنچایتی سیاست کی تحریک سے منسلک تنظیم ’کوشش‘ کے سیکرٹری روپیش اس خدشے کو تو مانتے ہیں کہ عورتوں کے ہاتھ میں اقتدار آنے کے باوجود اصل میں حاکمیت مردوں کی ہی رہے گی مگر وہ اس کے باوجود بہت پرامید ہیں۔ وہ کہتےہیں کہ’ کم از کم گنتی میں تو عورتوں کی نمائندگی آدھی سے زائد ہو ہی جائے گی اور یہ شروعات ہے۔ جب عورتیں اور بیدار ہوں گی تو مردوں کی غیر مناسب دخل اندازی برداشت نہیں کریں گی‘۔ | اسی بارے میں بہار: گاؤں کا اپنا ایف ایم ریڈیو25 February, 2006 | انڈیا ہندوستان تیسری بڑی معیشت29 January, 2006 | انڈیا بہار کی گڑیا لندن جارہی ہے12 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||