BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 February, 2006, 15:25 GMT 20:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار: گاؤں کا اپنا ایف ایم ریڈیو
راگھاو مہاٹو
بچپن کے دوست سمبھو بھی اس کاوش میں راگھاو کے ساتھ ہیں
برصغیر کے کسی گاؤں کا شاید یہ اکلوتا ایف ایم ریڈیو سٹیشن ہے، لیکن یہ غیر قانونی ہے۔ اس کے نشریاتی سامان کی کل لاگت ایک ڈالر سے کچھ اوپر ہے اور شاید یہ دنیا کا سستا ترین ریڈیو سٹیشن ہے۔ لیکن مقامی لوگ یقینی طور پر اس سے لگاؤ رکھتے ہیں۔

بہار کے ضلع ویشالی میں منصورپور گاؤں میں صبح سویرے نوجوان راگھاو مہاٹو اپنی دکان میں ایف ایم سٹیشن کی نشریات کی تیاری کر لیتے ہیں جس سے بیس کلومیٹر کے علاقے میں ہزاروں لوگ اپنے ریڈیو سیٹ آن کر لیتے ہیں۔

اس کے بعد ایک نوجوان کی بااعتماد آواز آتی ہے ’صبح بخیر! راگھاو ایف ایم منصورپور ون کی طرف سے خوش آمدید! اب اپنے پسندیدہ گانے سنیے‘۔ ریڈیو کا یہ اناؤنسر راگھاو کا قریبی دوست ہے۔

اگلے بارہ گھنٹے اس ریڈیو سٹیشن سے فلمی گانے اور مفاد عامہ کے پیغامات ارسال کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کی گمشدگی اور دکانوں کے کھلنے جیسی مقامی خبریں بھی نشر کی جاتی ہیں۔

راگھاو اور ان کا دوست یہ ریڈیو سٹیشن راگھاو کی بجلی کے سامان کی مرمت کی دکان میں قائم ہے جس کی چھت پر صرف ایک چھپر ہے۔ اس دکان کا کرایہ چار ڈالر ماہانہ ہے۔

راگھاو پڑھے لکھے نہیں ہیں لیکن ان کی اس دریافت نے انہیں مقبول بنا دیا ہے۔ ان کا ریڈیو کے ساتھ پیار انیس سو ستانوے میں شروع ہوا جب انہوں نے ایک الیکٹریشن کے طور پر مرمت کی ایک دکان میں کام شروع کیا۔ دکان کے مالک کے چھوڑ جانے کے بعد انہوں نے اپنے دوست کے ساتھ دکان حاصل کر لی۔

دو ہزار تین میں جب راگھاو نے ریڈیو کے نظام کے متعلق اچھی طرح مہارت حاصل کر لی تو انہوں نے ایک ایف ایم سٹیشن شروع کرنے کا سوچا۔ یہ ایک زبردست خیال تھا۔ بہار جیسے کم ترقی یافتہ علاقے میں جہاں بہت سے علاقوں میں بجلی نہیں ہے یہ سستا ٹرانسسٹر تفریح کا سب سے مقبول ذریعہ ہے۔

راگھاو کا کہنا ہے کہ ’اس کام کو سوچنے اور اس کا سازوسامان اکٹھا کرنے میں کافی وقت لگا۔ اس سامان پر میری لاگت پچاس روپے آئی۔ ٹرانسمیٹر کِٹ کو ایک انٹینا پر لگا کر اسے ایک بانس کے ذریعے ایک قریبی ہسپتال کی تین منزلہ عمارت پر نصب کیا گیا ہے۔

راگھاو کے پاس تقریباً دو سو ٹیپیں ہیں جن میں جن میں مقامی بھوج پوری زبان اور بالی ووڈ کے گانوں کے علاوہ راگھاو کے اپنے گائے ہوئے گانے شامل ہیں۔

یہ ریڈیو سٹیشن صرف پیار کا اظہار ہے کیونکہ راگھاو اس سے کوئی آمدن حاصل نہیں کرتے۔ ان کی دکان سے انہیں تقریباً دو ہزار روپے ماہانہ آمدن ہو جاتی ہے۔ اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک جھونپڑی میں رہنے والے اس نوجوان کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ ریڈیو سٹیشن چلانے کے لیئے حکومت سے لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے۔

راگھاو کی دوکان
یہ ریڈیو سٹیشن ایک دوکان میں واقع ہے

انہوں نے کہا کہ ’مجھے اس کا علم نہیں ہے۔ میں نے صرف تجسس کے ہاتھوں اس کام کا آغاز کیا اور ہر سال اس کی نشریات کا دائرہ بڑھاتا گیا‘۔ جب انہیں بتایا گیا کہ ان کا یہ ریڈیو سٹیشن غیر قانونی ہے تو انہوں نے اسے بند کر دیا لیکن لوگوں نے ان کی جونپڑی پر دھاوا بول دیا اور انہیں اسے جاری رکھنے پر مجبور کیا۔

لوگوں کو اس کے غیر قانونی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، انہیں اس سے پیار ہے۔ راگھاو نے بتایا کہ ’عورتیں اسے مردوں سے زیادہ سنتی ہیں‘۔ چونکہ اس دکان میں ٹیلیفون نہیں ہے اس لیئے لوگ اپنی فرمائش رقعہ لکھ کر کسی کے ہاتھ بھیجتے ہیں یا برابر میں واقع پبلک کال آفس پر فون کرتے ہیں۔

راگھاو کی شہرت پورے بہار میں پھیل گئی ہے۔ لوگوں نے انہیں چٹھیاں لکھ کر ان کے سٹیشن میں کام کرنے اور ان جیسا سامان خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

اس معاملے میں راگھاو کسی سے تعاون کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کہنا ہے کہ یہ ان کی تخلیق ہے اس لیئے وہ کسی کو اس کا راز نہیں بتا سکتے کیونکہ اس کا غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے۔

ایک حکومتی ریڈیو کے انجینیئر کا کہنا ہے کہ ’ایک انٹینے اور ٹرانمشن کے سامان کے ساتھ یہ ممکن ہے لیکن اس میں کوئی سکیورٹی نہیں ہو سکتی۔ کوئی بھی اس کی نشریات میں داخل ہو سکتا ہے‘۔

لیکن منصور پور کے لوگ اسے پیار کرتے ہیں کیونکہ اس نے ان کے گاؤں کو شہرت بھی بخشی ہے۔ اس سٹیشن کے ایک مداح کا کہنا ہے کہ ’اس لڑکے میں بہت قابلیت ہے لیکن وہ بہت غریب ہے۔ اگر حکومت اسے کچھ مدد فراہم کرے تو وہ بہت آگے جا سکتا ہے‘۔

سب باتیں اپنی جگہ لیکن اس وقت تو یہ ریڈیو سٹیشن چل رہا ہے اور مقامی لوگوں کی زندگی میں خوشیاں بکھیر رہا ہے۔

استاد عابد حسیناستاد عابد حسین
آئس کریم لے لو، بڑے مزے کی آئس کریم لے لو
احمد ریاضموجِ خوں کا شاعر
درد وکرب، عزم و امید میں غرق
شیکھر سمنانڈین لافٹر چیلنج
انڈین کامیڈی شو میں پاکستانی فنکار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد