درد و کرب، عزم و اُمید میں غرق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سویت یونین کا شیرازہ بکھرا تو سماجی شعور پہ مبنی شعر و ادب کو بھی ناقدین کی بڑی تعداد نے دوسرے درجے کا ادب قرار دے دیا لیکن تاریخ کا دھارا تو مسلسل ایک مدّوجذر کے عمل میں رہتا ہے۔ ایک دَور میں مسترد ہوجانے والے خیالات نئے لبادے میں پھر سے نمودار ہوتے ہیں اور نیا دور انھیں قبول کر لیتا ہے۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ کارل مارکس کی شخصیت اور نظریات پر بہترین کتابیں گزشتہ دس برس کے دوران شائع ہوئی ہیں۔ خود تیسری دنیا میں، جہاں سوشلزم کا واویلا ختم ہونے کے بعد ’نیو ورلڈ آرڈر‘ کا غُلغلہ تھا، اب خیالات کے دھارے کا رُخ ایک بار پھر سماجی انصاف کے موضوعات کی طرف مُڑ رہا ہے اور خاص طور پرلاطینی امریکہ میں پیش آنے والے حالات ہم سے سوال کر رہے ہیں کہ طبقاتی جد و جہد کا دور کیا واقعی ختم ہو گیا ہے؟ احمد ریاض کا دور کم و پیش وہی ہے جو ساحر لدھیانوی کا دور تھا، اُن کے موضوعات بھی وہی ہیں اور اِس شاعر کو سماجی مسائل کا حل بھی وہی دکھائی دیتا ہے جو ساحر لدھیانوی کو نظر آرہا تھا لیکن ذاتی حالات دونوں شاعروں کے مختلف رہے۔ ساحر نے لاہور سے فرار کی راہ اختیار کی اور بمبئی جا کر پناہ حاصل کی جہاں وہ دو دنیاؤں کا شاعر کہلانے لگا: ادب کی دنیا جہاں اسکا کلام ملک کے بہترین رسالوں میں شائع ہوتا تھا، اور فلم کی دنیا جہاں اسے ایک گیت کا معاوضہ، ُاس زمانے میں بھی، ہزاروں روپے ملتا تھا۔ مادّی خوشحالی کے اِس ماحول میں ساحر اپنی بیماری کے باوجود برسوں تک زندہ رہا لیکن اُن کا پاکستانی ہم زاد احمد ریاض غربت اور تنگدستی کے ہاتھوں 37 برس کی عمر ہی میں اللہ کو پیارا ہو گیا۔
مرا خلوص، مری جہد بیکراں، مرا عزم احمد ریاض کے لیے شاعری کوئی ذہنی عیاشی یا لفظوں کی بازی گری نہیں بلکہ زندگی کے حُسن کو نکھارنے اور دنیا سے سماجی بدصورتی دُور کرنے کی عملی کوشش کا دوسرا نام ہے۔ چنانچہ اس نے غزل کی بجائے نظم کو بنیادی ذریعہ اظہار بنایا ہے اور جب غزل بھی لکھی ہے تو محض اسکی ساخت استعمال کی ہے، روائیتی تغّزل یا گوناں گوں مضامین کی چاشنی پیدا کرنا اسکا دردِ سر نہیں ہے۔ دستورِ قیصری کے نتائج کے باوجود وہی کہا ہے جو محسوس کر لیا ہے ریاض جفا کا ذکر کریں گے، سِتم کو پرکھیں گے تم اپنے سُلگتے ہوئے ماحول میں تنہا گئے تو مرحلہء جُوئے شیر تک پہنچے ساحر لدھیانوی کو بمبئی میں جو سازگار حالات میسّر آئے اُن میں رہ کر وہ کم از کم یک سوئی سے اپنے فن کو سنوارنے کا فریضہ انجام دیتا رہا اور انھی حالات میں ’تاج محل‘ جیسی معرکہ آراء نظم وجود میں آئی۔ ہزاروں تیشوں کے عزمِ پیہم نے اس کو حسنِ جمیل سونپا ہزاروں ڈھانچوں کی کھاد، جسموں کا خون، بنیاد میں ہے اسکی ہماری اُس جہدِ زیست پرور کو زندگی یوں ابھارتی ہے ساحر لدھیانوی سے حبیب جالب تک بہت سے شعراء ایسے ہیں جنہیں نقاد ہنگامی شاعر کہہ کر ایک الگ زمرے میں رکھ دیتے ہیں کیونکہ اُن کے شعری محاسن کا تجزیہ کرنے کے لئے نہ تو نقاد کے پاس مناسب اوزار ہوتے ہیں اور نہ ہی ان شاعروں کا فن، تنقید کے بنے بنائے سانچوں میں فِٹ ہوتا ہے۔ احمد ریاض کی شاعری بھی اسی المیئے کا شکار رہی ہے لیکن 43 برس کے بعد اُس کے مجموعہ کلام کا پھر سے نمودار ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ شاعری محض ہنگامی نہیں ہے بلکہ جب تک معاشرے میں بے انصافی اور سماجی نا ہمواری کا دور دورہ ہے یہ شاعری پرانی نہیں ہو سکتی۔ احمد ریاض کے مجموعہ کلام موجِ خوں کو زاہد عکاسی اور میاں محمد اکرم نے پھر سے مرتب کیا ہے اور لاہور کےاشاعتی ادارے بُک ہوم نے ایک خوبصورت ٹائیٹل کے ساتھ نہایت اہتمام سے شائع کیا ہے۔ | اسی بارے میں منٹو کو گئے آدھی صدی بیت گئی23 February, 2005 | فن فنکار مرحوم کی یاد میں 04 December, 2003 | فن فنکار اشفاق احمد: بلیک اینڈ وائٹ یادیں 06 September, 2005 | فن فنکار نیشنل ڈانس فاؤنڈیشن کا منصوبہ14 November, 2005 | فن فنکار ’اب پاکستان نہیں جاؤں گی‘16 April, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||