BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 February, 2006, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
درد و کرب، عزم و اُمید میں غرق

سر ورق
سویت یونین کا شیرازہ بکھرا تو سماجی شعور پہ مبنی شعر و ادب کو بھی ناقدین کی بڑی تعداد نے دوسرے درجے کا ادب قرار دے دیا لیکن تاریخ کا دھارا تو مسلسل ایک مدّوجذر کے عمل میں رہتا ہے۔ ایک دَور میں مسترد ہوجانے والے خیالات نئے لبادے میں پھر سے نمودار ہوتے ہیں اور نیا دور انھیں قبول کر لیتا ہے۔

یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ کارل مارکس کی شخصیت اور نظریات پر بہترین کتابیں گزشتہ دس برس کے دوران شائع ہوئی ہیں۔

خود تیسری دنیا میں، جہاں سوشلزم کا واویلا ختم ہونے کے بعد ’نیو ورلڈ آرڈر‘ کا غُلغلہ تھا، اب خیالات کے دھارے کا رُخ ایک بار پھر سماجی انصاف کے موضوعات کی طرف مُڑ رہا ہے اور خاص طور پرلاطینی امریکہ میں پیش آنے والے حالات ہم سے سوال کر رہے ہیں کہ طبقاتی جد و جہد کا دور کیا واقعی ختم ہو گیا ہے؟

 احمد ریاض نے جو کچھ لکھا اپنے ساتھیوں کے درد و کرب، عزم و اُمید، تلخی و نا آسودگی میں غرق ہو کر لکھا۔ اِن کی زندگی اور اِن کا فن دونوں ایک دوسرے سے پیوست ہونے کے علاوہ اپنے عہد کے عمومی تجربے سے بھی یکجان ہیں۔ اسی سبب سے ’موج خوں‘ کے ہر ورق پر سچائی، دیانت اور خلوص باطن کی مہر ثبت ہے۔ اگر ان کا ساز اپنے تمام نغمات سے فراغت نہ پا سکا اور ان کی صدا اپنے پورے عروج کو نہ پہنچ سکی تو ایک طرح سے یہ بھی حقیقت حاضرہ ہی کی تفسیر تھی، ان کی جواں مرگی بجائے خود ہماری صورتِ حال پر ایک بلیغ تبصرہ ہے
فیض احمد فیض
اس پس منظر میں احمد ریاض جیسے شاعر کا اپنی مَوت کی نصف صدی بعد پھر سے منظرِعام پر آجانا باعثِ حیرت نہیں ہونا چاہیئے۔

احمد ریاض کا دور کم و پیش وہی ہے جو ساحر لدھیانوی کا دور تھا، اُن کے موضوعات بھی وہی ہیں اور اِس شاعر کو سماجی مسائل کا حل بھی وہی دکھائی دیتا ہے جو ساحر لدھیانوی کو نظر آرہا تھا لیکن ذاتی حالات دونوں شاعروں کے مختلف رہے۔

ساحر نے لاہور سے فرار کی راہ اختیار کی اور بمبئی جا کر پناہ حاصل کی جہاں وہ دو دنیاؤں کا شاعر کہلانے لگا: ادب کی دنیا جہاں اسکا کلام ملک کے بہترین رسالوں میں شائع ہوتا تھا، اور فلم کی دنیا جہاں اسے ایک گیت کا معاوضہ، ُاس زمانے میں بھی، ہزاروں روپے ملتا تھا۔ مادّی خوشحالی کے اِس ماحول میں ساحر اپنی بیماری کے باوجود برسوں تک زندہ رہا لیکن اُن کا پاکستانی ہم زاد احمد ریاض غربت اور تنگدستی کے ہاتھوں 37 برس کی عمر ہی میں اللہ کو پیارا ہو گیا۔

شاعر احمد ریاض
شاعر احمد ریاض
تاہم جب تک وہ زندہ رہا، ذاتی زندگی میں موجود محرومیوں اور تلخیوں کے باوجود انسانیت پر اسکا اعتماد غیر متزلزل رہا اور اسی کے نتیجے میں وہ خود اعتمادی سے بھی محروم نہیں ہوا۔

مرا خلوص، مری جہد بیکراں، مرا عزم
تمام جبر کے باوصف رائیگاں تو نہیں

احمد ریاض کے لیے شاعری کوئی ذہنی عیاشی یا لفظوں کی بازی گری نہیں بلکہ زندگی کے حُسن کو نکھارنے اور دنیا سے سماجی بدصورتی دُور کرنے کی عملی کوشش کا دوسرا نام ہے۔ چنانچہ اس نے غزل کی بجائے نظم کو بنیادی ذریعہ اظہار بنایا ہے اور جب غزل بھی لکھی ہے تو محض اسکی ساخت استعمال کی ہے، روائیتی تغّزل یا گوناں گوں مضامین کی چاشنی پیدا کرنا اسکا دردِ سر نہیں ہے۔

دستورِ قیصری کے نتائج کے باوجود
ہم لُطفِ شہریار کے دھوکے میں آ گئے

وہی کہا ہے جو محسوس کر لیا ہے ریاض
مری بیاض میں حُوروں کے واقعات نہیں

جفا کا ذکر کریں گے، سِتم کو پرکھیں گے
خموش رہ کے نہ گذرے گی زندگی ہم سے

تم اپنے سُلگتے ہوئے ماحول میں تنہا
میں اپنے شب و روز کے زنداں میں اکیلا

گئے تو مرحلہء جُوئے شیر تک پہنچے
نہ جاسکے تو تری بزم تک بھی جا نہ سکے

ساحر لدھیانوی کو بمبئی میں جو سازگار حالات میسّر آئے اُن میں رہ کر وہ کم از کم یک سوئی سے اپنے فن کو سنوارنے کا فریضہ انجام دیتا رہا اور انھی حالات میں ’تاج محل‘ جیسی معرکہ آراء نظم وجود میں آئی۔

 ’’یہ ہے وہ احمد ریاض جس کا گیت ادھورا رہ گیا۔ اور ابھی وہ اپنے نغمے میں اپنے جذبے کا اظہار پوری طرح نہیں کر پایا تھا کہ اس کے سازِ حیات کے تار ٹوٹ گئے۔ مگر یہ گیت اور نغمے اس وقت تک محفوظ رہیں گے جب تک انسان کی حوصلہ مندی اور صداقت پسندی زندہ رہے گی۔ ’موجِ خوں‘ ایک ایسے شاعر کا مجموعہء کلام ہے جس نے اپنے ضمیر پر ایک بار بھی حرف نہ آنے دیا اور جس نے حالات کے دار پر لٹک کر بھی شکست قبول نہ کی‘‘
احمد ندیم قاسمی
احمد ریاض نے بھی دیوارِ چین میں انھی خیالات کا اظہار کیا ہے لیکن یہاں ہمیں تاج محل والا بناؤ سنگھار اور فنّی نکھار نظر نہیں آتا۔

ہزاروں تیشوں کے عزمِ پیہم نے اس کو حسنِ جمیل سونپا
ہزاروں انتھک جوان ہاتھوں نے اس کو ڈھالا اسے سنوارا
ہزاروں بپھرے ہوئے خیالوں نے اس کو نقشِ دوام بخشا
ہزاروں تپتے ہوئے ارادوں نے اس کے ہر نقش کو ابھارا

ہزاروں ڈھانچوں کی کھاد، جسموں کا خون، بنیاد میں ہے اسکی
ہزاروں بہنوں کا حسن، ماؤں کا پیار، اِس میں مچل رہا ہے
ہزاروں بے خانماں شہیدوں کے عزم کی یادگار ہے یہ
ہزاروں بچوں کے قہقہوں کا خلوص اس میں پگھل رہا ہے

ہماری اُس جہدِ زیست پرور کو زندگی یوں ابھارتی ہے
عروسِ تاریخ اس کو دیوارِ چین کہہ کر پکارتی ہے

ساحر لدھیانوی سے حبیب جالب تک بہت سے شعراء ایسے ہیں جنہیں نقاد ہنگامی شاعر کہہ کر ایک الگ زمرے میں رکھ دیتے ہیں کیونکہ اُن کے شعری محاسن کا تجزیہ کرنے کے لئے نہ تو نقاد کے پاس مناسب اوزار ہوتے ہیں اور نہ ہی ان شاعروں کا فن، تنقید کے بنے بنائے سانچوں میں فِٹ ہوتا ہے۔

احمد ریاض کی شاعری بھی اسی المیئے کا شکار رہی ہے لیکن 43 برس کے بعد اُس کے مجموعہ کلام کا پھر سے نمودار ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ شاعری محض ہنگامی نہیں ہے بلکہ جب تک معاشرے میں بے انصافی اور سماجی نا ہمواری کا دور دورہ ہے یہ شاعری پرانی نہیں ہو سکتی۔

احمد ریاض کے مجموعہ کلام موجِ خوں کو زاہد عکاسی اور میاں محمد اکرم نے پھر سے مرتب کیا ہے اور لاہور کےاشاعتی ادارے بُک ہوم نے ایک خوبصورت ٹائیٹل کے ساتھ نہایت اہتمام سے شائع کیا ہے۔

اسی بارے میں
منٹو کو گئے آدھی صدی بیت گئی
23 February, 2005 | فن فنکار
مرحوم کی یاد میں
04 December, 2003 | فن فنکار
’اب پاکستان نہیں جاؤں گی‘
16 April, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد