BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 September, 2005, 23:04 GMT 04:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اشفاق احمد: بلیک اینڈ وائٹ یادیں

اشفاق احمد
’ مگر اپنے اپنے مقام پر، کبھی ہم نہیں کبھی تم نہیں‘
آج اشفاق احمد کی پہلی برسی ہے۔پاکستان ٹیلی ویژن نے گزشتہ سات ایّام کو ’ ہفتہء تلقین‘ کے طور پر منایا۔ اس دوران میں ہر روز اشفاق احمد کا کوئی معروف کھیل دکھایا گیا۔ ایک ٹی وی پروڈیوسر کے طور پر عارف وقار کا مرحوم سے طویل عرصے تک رابطہ رہا۔ زیرِ نظر مضمون ان کی کچھ ذاتی یادوں پر مشتمل ہے۔ (ایڈیٹر)

پاکستان میں جب ٹیلی ویژن کا اجراء ہوا تو اس نرم و نازک پودے کو سینچنے والوں میں اشفاق احمد کے ہاتھ سب سے فعّال تھے اور 1970 کی دہائی میں جب یہ نوخیز پودا ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر رہا تھا تو اشفاق احمد ایک مسرور و مطمئن باغبان کی طرح اسے پروان چڑھتا دیکھ رہے تھے۔

Ashfaq or Ishfaq
 اشفاق احمد کا نام جب اُردو میں لکھا جاتا ہے تو زیِر یا زبر لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی چنانچہ اسکے ہجوں پر بھی بحث کی نوبت نہیں آتی لیکن جب یہ انگریزی میں لکھا جاتا ہے تو فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ اسے ’اے‘ سے شروع کیا جائے یا ’آئی‘ سے۔ اشفاق صاحب کے نام کو (خصوصاً پنجاب میں) الف پر زبر لگا کر پڑھا جاتا ہے اور اسی لئے انگریزی میں لوگ اسے ’اے‘ سے لکھتے ہیں لیکن خود اشفاق صاحب اپنا نام ’ آئی ‘ سے لکھتے تھےیعنی ’الف‘ کے نیچے زیر لگا کر۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اشفاق ( الف پر زبر) شفق یا شفقت کی جمع ہےجبکہ اِشفاق ( الف کے نیچے زیر) بروزنِ اِفعال ہے اور اس سے مراد شفیق ہونے کی کیفیت ہے۔ عربی میں اسکا مطلب نرم، ملائم، مہربان اور ہمدرد ہوتا ہے۔

ٹی وی والوں کے لئے اشفاق صاحب ’ گھر کے آدمی‘ تھے۔ وہ ہماری سب کمزوریوں اور توانائیوں سے واقف تھے۔ ہر پروڈیوسر کی ذاتی صلاحیتیوں کواتنی اچھی طرح جانتے تھے کہ اپنے سکرپٹ کو بعض اوقات پروڈیوسر کی ضروریات کے عین مطابق ڈھال دیتے تھے۔

اندرونِ ٹی وی انھیں سیٹ ڈیزائن اور میک اپ سے لیکر وارڈروب تک تک کی تمام تفصیلات معلوم تھیں چنانچہ اُن کے سکرپٹ میں عام ہدایات کے علاوہ کچھ خصوصی ہدایات بھی درج ہوتیں، مثلاً
’ کچن کی دیوار پر دو گھوڑوں والی تصویر ہرگز نہ ٹانگی جائے‘
’ لڑکی کے باپ کو کالی پیلی کوٹی نہ پہنائی جائے‘
’ لڑکے کے کمرے میں اصلی اور بڑا ٹیپ ریکارڈر رکھا جائے اور وہ بچہ جمورا قسم کا ٹیپ ریکارڈر ہرگز استعمال نہ کیا جائے‘۔
’ چائے دانی میں پانی کی بجائے اصلی چائے ڈالی جائےجس میں سے بھاپ نکلتی ہو‘ وغیرہ۔

ان ہدایات کا پس منظر جاننے کے لئے آپکو ٹیلی ویژن سٹیشن کے اندر تک جانا پڑے گا جہاں Props میں دو گھوڑوں کی ایک بڑی سی تصویر پڑی ہے اور سیٹ ڈیزائینر اپنی سہولت کے لئے ہر ڈرامے کے کچن میں اسے ٹانگ دیتے ہیں۔

کالی پیلی کوٹی کا معاملہ یوں ہے کہ وارڈ روب میں ایک واسکٹ تھی جس پر کالی اور پیلی لائینوں سے چیک کا ڈیزائن بنا ہوا تھا۔ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کے زمانے میں جو لوگ سفید کپڑے پہن کر کیمرے کے سامنے آجاتے تھے وہ منظر میں سفید و سیاہ کا سارا توازن خراب کر دیتے تھے چنانچہ سفیدی کو کنٹرول کرنے لے لئے ہم عموماً انھیں یہ کالی پیلی جیکٹ پہنا دیتے تھے۔

جب نظام دین کی بیٹھک کا پروگرام شروع ہوا تو پہلے ہی روز نظام دین صاحب بھی سفید کُرتا اور شلوار پہن کر آگئے۔ چنانچہ سفیدی کو کنٹرول کرنے کے لئے انھیں وہ مشہورِ زمانہ کوٹی پہنا دی گئی۔

News image
اشفاق احمد کی ایک مشہور تصنیف

چونکہ نظام دین صاحب کا پروگرام عرصہ دراز تک جاری رہا اس لئے کوٹی کا نظارہ بھی ٹی وی دیکھنے والے عرصہ دراز تک کرتے رہے۔

نظام دین کی بیٹھک کے بعد وہ کوٹی اتنی’ بدنام‘ ہوگئی کوئی بھی اداکار اسے استعمال کرنے سے پہلے کئی بار سوچتا۔

جب رنگین ٹی وی کا دور شروع ہوا تو اس ’ستّارالعیوب‘ واسکٹ کی اہمیت خاصی کم ہوگئی لیکن اشفاق احمد کے ڈراموں میں کبھی کبھار اداکار ریاض محمود وہی کوٹی پہن کر نمودار ہو جاتے تھے۔ اشفاق صاحب نے ایک دو بار تو سب کو زبانی منع کیا جب لیکن ہم لوگ باز نہ آئے تو انھوں نے باقاعدہ تحریری ہدایات دینی شروع کردیں۔

اشفاق صاحب نے ٹی وی کیلئے جو کچھ بھی لکھا وہ نشر ہوا اور ساری دُنیا نے دیکھا۔ اُس سارے کام کا تذکرہ سال بھر سے جاری ہے اور آنے والے برسوں میں بھی جاری رہے گا۔ لیکن مجھے آج کی نشست میں اشفاق صاحب کے دو ایسے ڈراموں کا ذِکر کرنا ہے جو آج تک کسی نے نہیں دیکھے۔۔۔۔ کیونکہ یہ ڈرامے کبھی تیار ہی نہ ہو سکے۔ پہلے ڈرامے کا عارضی نام تھا ’ ایک رات کی کہانی ‘ یہ ڈرامہ لکھنے کی ہامی اشفاق صاحب نے میرے پُر زور اصرار پر بھری تھی۔ آئیڈیا یہ تھا کہ طالب علموں کی ایک ٹولی رات کو گورنمنٹ کالج کے ہاسٹل سے نکلتی ہے اور خوش گپیاں کرتی ہوئی مال روڈ پر ٹہلنے لگتی ہے۔ چار پانچ لڑکوں کا یہ گروہ پیدل سفر شروع کرتا ہے اور ہائی کورٹ، ریگل، چیرنگ کراس وغیرہ سے ہوتا ہوا آدھی رات کے بعد باغِ جناح میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہاں پر باغ کے مالی خشک ٹہنیوں کے الاؤ پر ہاتھ سینک رہے ہیں۔۔۔۔ اور تب مشرق میں پو پھٹتی ہے۔ صبح کی روشنی کے ساتھ ہی ڈرامہ ختم ہو جاتا ہے۔

لیکن یہ صرف خاکہ تھا جو کہ میرے زمانہء طالبعلمی کی ایک یادگار رات کے طور پر ذہن میں محفوظ تھا۔ میری پُر زور فرمائش پر اشفاق صاحب نے اس خاکے میں رنگ بھرنے کا وعدہ کر لیا۔۔۔۔ ظاہر ہے کہ اس خاکے میں کوئی کہانی نہیں تھی، کہانی تو اشفاق صاحب کو لکھنی تھی۔

خاکہ پیش کرنے کے کوئی ایک ہفتہ بعد میں اشفاق صاحب سے ملا تو انھوں نے خوشخبری سنائی کہ کہانی بن گئی ہے بس کچھ چیزیں درکار ہیں۔ میں نے تفصیل پوچھی تو انھوں نے کہا کہ ایک کرکٹ میچ کی کمنٹری چاہیئےجس میں ایک کھلاڑی چوکے لگا رہا ہو، تماشائیوں کا بےپناہ شور ہو اور کمنٹیٹر اس شور کو شکست دے کر بلند تر آواز میں کمنٹری کر رہا ہو۔

میں نے کہا کہ اشفاق صاحب اس طرح کی کمنٹری ریکارڈ میں ملنا تو مشکل ہے البتہ ہم خود تیار کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خود کرو یا بنی بنائی حاصل کرو یہ تمھارا مسئلہ ہے بہر حال کمنٹری ہونی چاہیئے۔۔۔۔ اور خوش قسمتی سے دو ہی دِن بعد ہمیں ایک پُرانے میچ کی اصلی کمنٹری مل گئی جو اشفاق صاحب کے مطالبات کے عین مطابق تھی۔

کمنٹری کے علاوہ اشفاق صاحب نے جو خام مال طلب کیا تھا اسکا انتظام بھی دو تین ہفتوں میں ہو گیا۔

اشفاق صاحب کا آخری مطالبہ یہ تھا کہ رات کے وقت مال روڈ پر جا کرکیمرے کا Test نکالا جائے اور جائزہ لیا جائے کہ جس کہانی پر ہم اتنی محنت کر رہے ہیں اسے رات کے اندھیرے میں کیمرہ ’پکڑتا‘ بھی ہے یا نہیں۔۔۔ اور اس ٹیسٹ میں ہم بُری طرح فیل ہوگئے۔

کیمرہ مین، اشفاق صاحب، میں اور ٹی وی وین کا ڈرائیور تقریباً ساری رات مال روڈ پر نمونے کے سین ریکارڈ کرتے رہے اور زمزمہ توپ کے قریب تو ہم نے اوندھے سیدھے ہو کر کئی طرح کے شاٹس بنائے لیکن صبح آکر رزلٹ دیکھا تو ۔۔۔۔’آسمانوں میں اندھیروں کے سوا کچھ بھی نہیں‘

کم روشنی میں کام کرنے والے کیمرے ابھی پاکستان ٹیلی ویژن کے پاس نہیں آئے تھے اور جو تکنیکی سازو سامان میسر تھا اس میں رات کی شوٹنگ ممکن نہ تھی۔ اشفاق صاحب نے مایوس ہو کر کام روک دیا اور اس پراجیکٹ کو بہتر سازو سامان کے حصول تک موّخر کر دیا۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ اشفاق صاحب نے کسطرح کی کہانی بنائی ہوگی اور کرکٹ کمنٹری کو وہ کہانی میں کہاں استعمال کرنا چاہتے ہوں گے۔

ایک اور منصوبہ جس پر اشفاق صاحب کے ساتھ کافی عرصہ مذاکرات ہوتے رہے وہ ’ کمپنی بہادر‘ کا منصوبہ تھا۔

News image
ٹی وی والوں کے لئے اشفاق صاحب ’ گھر کے آدمی‘ تھے۔

ہمارا اردہ تھا کہ جنگِ پلاسی سے لے کر 1860 تک کے زمانے کو ایک سیریل میں ڈھالا جائے۔ اس پراجیکٹ میں وہ تمام مسائل موجود تھے جو ایک تاریخی اور کاسٹیوم کھیل میں ہوتے ہیں۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ ’ شوق ہر رنگ رقیبِ سروسامان نکلا۔‘

تو ہم نے بھی ایچی سن کالج کا ایک حصہ فورٹ ولیم کالج کلکتہ کےطور پر منتخب کرلیااور باقی کام Sets پر چھوڑ دیا۔ اس سیریل میں میری خصوصی دلچسپی اُن انگریز کرداروں میں تھی جو اُردو شعر و ادب کے رسیا تھے، حقّہ پیتے تھے، مجرا دیکھتے تھے اور خود بھی شعر کہتے تھے۔ اس سیریل کی کاغذی تیاری شروع ہوئی لیکن ٹیلی ویژن حکام نے اسے ایک مہنگا اور ناقابلِ عمل منصوبہ قرار دے کر معاملہ کھٹائی میں ڈال دیا۔

کچھ عرصے کے بعد میں امریکہ منتقل ہو گیا۔ چار برس کے بعد لوٹا اور اشفاق صاحب سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ حکامِ بالا سے بات ہو چکی ہے، کمپنی بہادر کا سیریل ضرور بنے گا۔ اس کے بعد صورتِ حال کچھ اسطرح رہی کہ کبھی دربارسرکار میں اشفاق صاحب کی حیثیت تبدیل ہو جاتی اور کبھی میں پاکستان سے باہر چلا جاتا:
’ مگر اپنے اپنے مقام پر، کبھی ہم نہیں کبھی تم نہیں‘

پچھلے دنوں کینن کمپنی کا کیمرہ XL-2 استعمال کرنے کا موقع ملا۔
شام کے دھندلکے میں زمزمہ توپ کے قریب ایک Test نکالا۔ واہ کیا بہترین رزلٹ تھا۔ طبیعت باغ باغ ہو گئی۔ بے اختیار دِل چاہا کہ اشفاق صاحب کو اطلاع دوں۔۔۔ لیکن کینن کمپنی نے شاید بہت دیر کر دی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد