اشفاق احمد کی موت پر رنج و غم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی ڈرامہ نگار اشفاق احمد لاہور میں سات ستمبر کو انتقال کر گئے ۔ ان کے دنیا سے چلے جانے پر کراچی میں ٹی وی اور سٹیج سے وابستہ اداکاروں اور ڈرامہ نگاروں سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اشفاق احمد کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ مشہور ڈرامہ نگار اور اب حکومت سندھ کے لیے ثقافت کی مشیر فاطمہ ثریا بجیا نے کہا کہ ’بہت دکھ ہوا۔ بہت اچھا ادیب اور اور بہت اچھا انسان چلا گیا۔ اس کے ایک محبت اور سو افسانے مایہ ناز تحریریں تھیں۔ بہت خوبصورت ترجمے کیےاس نے۔ وہ ایک بہت بڑا انسان تھا۔‘ ٹی وی سے وابسطہ افراد سے رابطہ کر کے لگا کہ وہ اس صدمے سے خاصے متاثر ہوئے ہیں۔ ٹی وی اور سٹیج کے مشہور ادا کار راحت کاظمی نے کہا کہ ’اشفاق صاحب سے میری ملاقات یوں سمجھ لیجیے کہ دہائیوں پر محیط ہے۔ جب بھی ان سے ملا تو لگا کہ یہ وہ شخصیت ہے کہ جس نے پڑھنا کبھی نہیں چھوڑا۔ جب بھی ملا تو لگا کہ کچھ سیکھ کر اٹھا ہوں۔ بحثیں بھی ہوئیں لیکن وہ اردو زبان میں اپنی شناخت تھے‘۔ ’ان کی تحریریں اپنی نظیر آپ ہیں۔ وہ خود کو وقت کے ساتھ ڈھالنے کا فن جانتے تھے۔ میں تو ان کے چرنوں میں بیٹھنے والوں میں سے ہوں۔‘ اسی سلسلے میں جب پاکستان کے نامور مزاح نگار انور مقصود سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ’اردو ادب میں ڈرامہ بہت کم ہے۔ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے ڈرامے دیکھے تو بہت اچھا لگا۔ اشفاق صاحب کا افسانہ ’گڈریا‘ بہت پسند تھا۔‘ ’پھر اشفاق صاحب میں تبدیلی آئی اور وہ مذہب کی طرف راغب ہوگئے ۔ مگر انسان بہت اچھے تھے اور بہت اچھے دوست۔ ان کے ساتھ تیس برس کا تعلق تھا۔ ان کی موت کا بہت دکھ ہوا ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||