ستار نوازی سے آئس کریم تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’آئس کریم لے لو۔۔ بڑے مزے کی ۔۔ آئس کریم لے لو‘۔ یہ آوازایں لگاتے ہوئے پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد کے بوہری بازار میں میری ملاقات ریڑھا چلانے والے استاد عابد حسین سے ہوئی۔ استاد عابد حسین پاکستان کے گنے چنے ستار نوازوں میں سے ایک ہیں اور بائیس برس تک ریڈیو پاکستان اور ٹیلی ویژن پر بیشتر بڑے فنکاروں کے ساتھ ستار بجاتے رہے۔ لیکن ان دنوں وہ حیدرآباد کی گلیوں میں ریڑھے پر سرخ ڈبوں سے لپٹے ہوئے ڈبوں میں اپنی تیار کردہ آئس کریم بیچتے ہیں۔ سردیوں میں مونگ پھلی اور گرمیوں میں آئس کریم بیچ کر اپنے اہل خانہ کے لیے حلال رزق کمانے کے جوش میں یہ خود دار انسان جوڑوں کے درد سے چور ہونے کے باوجود بھی صبح سے رات تک بارہ گھنٹے ریڑھا چلانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ میں نے آئس کریم لینے کے بجائے جب مائیک ان کی طرف کیا تو دیکھتے ہی دیکھتے بوہری بازار کے تاجروں اور بازار سے گزرنے والے لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا اور ان میں سے بیشتر افراد کو اس وقت احساس ہوا کہ گزشتہ چند برسوں سے ریڑھا چلانے والا کوئی عام آدمی نہیں ہے بلکہ یہ ایک بہت بڑے سازندے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے چچا استاد جمال الدین خان ہندوستان کے بہت بڑے ستار نواز روی شنکر کے ساتھ ستار بجاتے ہیں۔۔۔ صاحب ہندوستان میں فن کی بڑی قدر ہے۔۔ میں نے ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر صدر جنرل پرویز مشرف تک سب کو ستار سنایا۔۔ سب نے واہ واہ کی اور بس۔۔ پاکستان میں یہ حال ہے کہ ایک وقت کی روٹی کے لیے ستار بجانے کے بجائے ریڑھا چلانا پڑتا ہے۔۔‘۔ اتنی باتیں ایک ساتھ کہتے ہوئے استاد رو پڑے۔۔۔ بھرے مجمعے میں آنسو بہاتے کل تک ستار بجانے والے استاد اور آج کے ریڑھا چلانے والے عابد حسین کی باتیں سن کر ارد گرد کھڑے کئی لوگ بھی اداس ہوگئے۔ میری درخواست پر استاد راضی ہوئے اور اپنے ’چائلڈ لیبر‘ کے زمرے میں آنے والے چھوٹے بیٹے کو ریڑھا سنبھالنے کا کہتے ہوئے ایک دوست سید سردار شاہ کی رہائش گاہ چلنے کے لیے رضامند ہوگئے۔ اب استاد کے آنسو تھم چکے تھے اور ان کی آنکھوں میں عجیب چمک اور خوشی نظر آرہی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے استاد کے بیٹے شاہد علی اور ایک بھانجا ستار اور طبلہ لے کر پہنچے اور انہوں نے ستار کی تاریں ہلا کر سوز بھرے سر چھیڑے۔
استاد عابد حسین نے بتایا کہ انہوں نے دل برداشتہ ہوکر ستار گھر سے نکال دیا تھا اور اپنے ایک شاگرد کو تحفے میں دے دیا اور خود اپنے خالو سے آئس کریم بنانے کا فن سیکھ کر پیٹ پالنے کے لیے نیا کام شروع کیا۔ ان کے مطابق حیدرآباد میں ایک بریانی فروش کو ستار کا شوق ہوا اور وہ ستار خرید کر لائے۔ جب چند ہفتوں بعد بریانی فروش کا شوق پورا ہوگیا تو انہوں نے ستار ان کو تحفے میں دے دیا اور ایک بار پھر یہ ستار استاد عابد حسین کے لیے کمبل بن کر ان کے گھر میں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ ’دوبارہ ستار گھر میں آنے کے بعد میں احساس جرم میں مبتلا ہوگیا کہ میں نے چار پشتوں سے گھر میں رہنے والا فن اپنی اولاد کو منتقل نہیں کیا۔ اس احساس نے ریڑھے کے ساتھ ساتھ ستار بجانے کا سلسلہ جاری رکھا اور اس طرح میں نے بڑے بیٹے شاہد علی کو آخر کار ستار نواز بنا دیا اور اپنا فرض پورا کرلیا‘۔
استاد عابد حسین کے بعد جب ستار شاہد علی نے سنبھالا تو وہ پلٹے اور سرگم لگانے میں اپنے والد سے کسی طور پر کم نہیں لگے۔ بیٹے کو بجاتے دیکھ کر استاد عابد حسین کے جو احساسات تھے وہ صرف محسوس ہی کیے جاسکتے تھے۔ ستار نواز عابد حسین نے بتایا کہ ان کا دل اس وقت ٹوٹا جب ’بڑے لوگوں‘ نے ستار سننے کے بعد فرمائش کی کہ اب استاد کوئی گانے والی رکھیں اور انہیں لایا کریں۔ ان کے مطابق ایسی باتیں سننے کے بعد انہوں نے ستار کو چھوڑ کر ریڑھا چلانے کو ترجیح دی۔ سگریٹ سے سگریٹ جلاکر نوش کرنے والے( چین سموکر) استاد عابد حسین نے بتایا کہ وہ تان سین کی اولاد میں سے ہیں اور ہندوستان کے شہر جے پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق تیرہ برس کی عمر میں ان کے والد یعقوب علی خان انتقال کر گئے اور انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے بعد وہ ہجرت کرکے پاکستان آئے اور پاکستانی پنجاب کے شہر چیچہ وطنی میں آباد ہوئے۔ یہاں سے وہ پہلے صوبہ سندھ کے شہر میرپور خاص اور بعد میں حیدرآباد میں رہائش پذیر ہوگئے اور تاحال وہیں ہیں۔ استاد عابد حسین کے گیارہ بچے ہیں جس میں دو بیٹے اور نو بیٹیاں شامل ہیں۔ ان کے بیٹے شاہد علی نے بتایا کہ جب ان کی ایک بہن کی شادی ہوئی تو بابا کے قریبی دوست نے کہا کہ شادی میں کھانا وہ دیں گے۔ لیکن ان کے بقول ان کے ابو نے اپنے اس دوست کو دعوت ہی نہیں دی۔ |
اسی بارے میں پرویز مہدی انتقال کر گئے29 August, 2005 | فن فنکار دربار، سرکار اور فنکار18 June, 2005 | فن فنکار مہدی حسن بھارت چلے گئے04 March, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||