دربار، سرکار اور فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
موسیقی کا شعبہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا انسانی شعور۔ سُر سے پہلے تال نے جنم لیا جو نوزائیدہ بچے کے دھڑکتے دِل سے شروع ہوئی پھر اجتماعی محنت کی کٹھالی میں یہ آھنگ کندن بنتاچلاگیا چنانچہ شکاریوں کی ’ہاؤہُو‘ اور ملاّحوں کے گیت جن میں وہ مِل جُل کر ایک ساتھ چپّو چلانے کے لئے زور لگاتے تھے، موسیقی کی قدیم ترین شکلیں ہیں۔ آج بھی جب ہم ’زور لگاکے ہیّا۔ پیر جما کے ہیّا‘ جیسے گیت سُنتے ہیں تو اجتماعی محنت کے قدیم نغموں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ پیداوار کی افراط نے جب انسان کے لئے فرصت کے لمحات پیدا کر دیے تو جسمانی مشقت کے ایک حصے نے رقص کی شکل اختیار کر لی اور گلے سے خارج ہونے والی تھکن کی آوازیں موسیقی میں ڈھل گئیں۔ وافر پیداوار کے نظامِ تقسیم نے معاشرے میں ایک مراعات یافتہ طبقہ پیدا کر دیا تھا جسے جسمانی مشقت کی ضرورت نہ تھی اور وہ اپنا وقت رقص، موسیقی مصوری اور سنگ تراشی کے فروغ پر صرف کر سکتا تھا۔ آج جب دنیا کے ہر خطے میں ایک مضبوط درمیانی طبقہ پیدا ہو چکا ہے تو ادب، آرٹ، کلچر اور فنون کی پرورش کا بارِ گراں بھی اب محض اہلِ ثروت اور اہلِ فُرصت کی ذمہ داری نہیں رہا۔ فنون کی سرپرستی اہلِ محنت کے ہاتھ میں آنے کے بعد فنون نے کئی چولے بدلے ہیں۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے بھی مصوری، موسیقی اور آرٹ کی دیگر اصناف کو متاثر کیا ہے۔ برِصغیر پاک و ہند میں موسیقی اور مصوری کی سرکاری سرپرستی عرصہ دراز تک جاری رہی۔ بڑے بڑے شاہی درباروں سے لیکر چھوٹے موٹے رجواڑوں تک سبھی بادشاہ اور نواب اپنی بساط کے مطابق فنکاروں کو انعام و اکرام سے نوازتے رہتے تھے۔ انگریزوں کی آمد کے بعد بھی یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا حتّٰی کہ بیسویں صدی میں بھی انگریز حکومت نے مقامی شاعروں، ادیبوں اور مصوروں کو ’ مساعیء جنگ‘ میں شامل کر کے نہ صرف انھیں فوج کے اعزازی عہدے دئیے بلکہ مالی طور پر بھی خوشحال کر دیا۔
( یاد کیجیےکرنل فیض احمد فیض، کرنل مجید ملک، میجر چراغ حسن حسرت اور میجر ضمیر جعفری) لیکن آج جب کہ قدیم درباروں کی سرپرستی باقی نہیں رہی اور نہ ہی انگریز حکومت کو ’ بھرتی ہو جا رے رنگروٹ‘ جیسے نغمات لکھوانے کی ضرورت رہی ہے تو صرف اپنے قلم ، مُوقلم، بنسری، سارنگی ستار یا ڈھولک کے بل بوتے پر زندہ رہنے والے فن کار کا مستقبل ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن چُکا ہے۔ بنسری نواز خادم حسین اور طبلہ نواز واجد علی سمجھتے ہیں کہ یہ ساز اب روزی کمانے کا ذریہ نہیں رہے بلکہ محض اہلِ شوق کی میراث بن گئے ہیں جن کے بارے میں غالب نے کہا تھا: پوچھو ہو کیا وجود و عدم اہلِ شوق کا لیکن سارنگی نواز خاور حسین کے لئے سارنگی محض ایک آلہء تکمیلِ شوق نہیں ہے بلکہ وہ اسے روز گار کا ایک جائز وسیلہ سمجھتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے موسیقاروں اور میوزک ڈائریکٹروں کو سارنگی اپنے آرکسٹرا میں شامل کرنی چاہیئے۔ وہ حکومت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ جس طرح انڈیا میں سارنگی سیکھنے والے بچوں کو حکومت کی طرف سے وظیفہ دیا جاتا ہے اسی طرح حکومتِ پاکستان بھی کلاسیکی سازوں میں تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کے وظائف مقرر کرے تاکہ یہ ساز بھی زندہ رہیں اور ان کو بجانے والے بھی ناپید نہ ہو جائیں۔
ان پُرانے فنکاروں سے ہٹ کر ایک نگاہ جدید موسیقی کی صنعت پر ڈالیے تو ایک مختلف ہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ نئے موسیقاروں کا بنیادی آلہ ہے۔Keyboard صوتیاتی سائنس کی ترقی نے الیکٹرانی موسیقی کے نئے نئے امکانات پیدا کر دئیے ہیں۔ تین فٹ لمبے اور دو فٹ چوڑے ’کی- بورڈ‘ میں دعوٰی کیا جاتا ہے کہ دنیا کا ہر ساز اورکائنات کی ہرآواز قید کی جا سکتی ہے۔ Keyboard کے پاس بیٹھ کر کبھی اس سے کھیلیے تو آپ کو خود محسوس ہو گا کہ آپ بیٹھے بٹھائے ایک ستار نواز، سارنگی نواز، طبلہ نواز اور بنسری نواز بن گئے ہیں۔ جن چابیوں پر انگلیاں رکھ کر آپ پیانو کی آواز پیدا کر رہے ہیں، صرف ایک بٹن دبانے سے وہی چابیاں اب وائلن کے سُر نکالنے شروع کر دیں گی اور اگر آپ نے ستار کا بٹن دبا دیا تو اُسی ’کی بورڈ‘ سے ستار کی آواز برآمد ہونے لگے گی۔ آپکو تال کے لئے کسی طبلہ نواز کی بھی ضرورت نہیں بلکہ اسی بورڈ میں آپ کے لئے مختلف تال کے رِدم موجود ہیں۔ آپ جو تال منتخب کرنا چاہیں کر لیں وہ مستقل بجتی رہے گی اور آپ تال کے مطابق جو ساز بھی بجانا چاہیں بورڈ کا متعلقہ بٹن دباکر بجا سکتے ہیں۔ ماضی میں شاید کسی موسیقار نے خواب میں بھی اتنی سہولتیں یکجا نہ دیکھی ہوں گی ، اور آج جب کہ اسطرح کا ہمہ گیر ساز ایک حقیقت بن چکا ہے شاید آپ سوچتے ہوں کہ دنیا کے ہر موسیقار کو اس پر جشن برپا کرنا چاہیے .... لیکن ایسا نہیں ہے۔
خود پاپ موسیقی کے ریکارڈ تیار کرنے والے میوزک ڈائریکٹر بھی محض ’ کی بورڈ‘ پر تکیہ نہیں کرتے ۔ ایسا کیوں ہے ؟ آخر اصل سازوں میں ایسی کیا بات ہے جو ’ کی بورڈ‘ میں نہیں؟ جدید دور کے کچھ کامیاب موسیقاروں نے اس بات کی وضاحت کی ہے اور ہماری اگلی نشست کا موضوع بھی یہی ہے۔ (جاری ہے ) |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||