کلاسیکی سازوں کا مستقبل؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شہ رخ مرزا نے بہت بچپن میں کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کرنی شروع کی تھی۔ پھر وہ کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے لئے امریکہ چلے گئے جہاں موسیقی کا شوق بدستور پروان چڑھتا رہا۔ بینکاری کی اعلیٰ تربیت حاصل کرنے کے بعد اب وہ پاکستان آ کر ایک اونچے عہدے پر فائز ہیں۔ بیرونِ ملک قیام کے دوران انھوں نے میوزک کی مغربی روایت سے بھی اچھی طرح شناسائی حاصل کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ دو عشروں کے دوران بہت اچھا میوزک پروان چڑھا ہے۔ اور وائیٹل سائن اور جنون سے جو روایت شروع ہوئی تھی اس نے اب تک کئی ذہیں نوجوانوں کو موسیقی پسند عوام سے متعارف کرایا ہے۔ شہ رخ مرزا کے بقول ہمارے نوجوان موسیقار اس لحاظ سے امریکہ اور یورپ سے آگےہیں کہ انھوں نے مغرب کی محض نقالی نہیں کی بلکہ اپنی لوک روایت اور کلاسیکی انگ کو بھی اس میں سمو دیا ہے۔ شہ رخ مرزا سمجھتے ہیں کہ نوجوانوں کو اپنی کلاسیکی روایت سے پوری طرح آگاہ ہونا چاہیےاور مقصد کا حصول تبھی ممکن ہوگا جب موسیقی کو نظامِ تعلیم کا حصہ بنا دیا جائے گا۔ یعنی طالبعلموں کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ جدید موسیقی، لوک موسیقی یا کلاسیکی موسیقی میں جسکا بھی انتخاب کرنا چاہیں اسے یونیورسٹی کی سطح پر ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھ سکیں۔ سارنگی نواز خاور حسین کا کہنا ہے کہ نوجوان لوگ موسیقی کی صرف اُن اصناف میں دلچسپی لیتے ہیں جن کے ذریعے وہ بعد میں پیسے کما سکیں۔ چونکہ کلاسیکی موسیقی میں پیسہ نہیں ہے اس لئے نوجوان اس جانب راغب نہیں ہوتے۔ خاور حسین خود موسیقی کے امرتسری گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُن کے دادا اُستاد حسین بخش ہندوستان کے معروف سارنگی نواز تھے اور ماموں اُستاد نتھو خان نے اِسی فن کو بامِ عروج تک پہنچا دیا تھا۔ البتہ خاور حسین کے بعد کی نسل سارنگی میں دلچسپی نہیں رکھتی کیونکہ اسے سیکھنے میں محنت بہت لگتی ہے جبکہ کاروباری طور پر یہ کوئی نفع بخش ساز نہیں ہے اور اس کی نسبت وائلن کی زیادہ پذیرائی ہے۔
قدیم ہندوستان میں ڈھولک کی طرز کا ایک ساز صدیوں سے موجود تھا جسے پکھاوج کہتے تھے۔ مسلمانوں کی ہندوستان میں آمد کے بعد جہاں ادب، آرٹ، کلچر پر نئے اثرات مرتب ہوئے وہیں موسیقی میں بھی نئی جہتیں پیدا ہوئیں۔ پکھاوج چونکہ سائیڈ سے بجانا پڑتا تھا اور ہاتھ سیدھا نہ پڑتا تھا اس لئے تال بھی محدود تھی۔ آج سے کوئی سات سو برس پہلے جب پکھاوج کو مرکز سے کاٹ کر دو حصّے کر دئیے گئے تو طبلے کا دایاں اور بایاں حصّہ وجود میں آیا۔ طبلے پر بجانے والے کا ہاتھ سیدھا پڑتا ہے چنانچہ ہتھیلی اور انگلیوں کے ارتباط سے کئی نئی تالیں وجود میں آئیں۔ طبلے میں یہ لچک موجود ہے کہ وہ ستار اور سارنگی جیسے قدیم سازوں کے ساتھ بھی چل سکتا ہے اور وائلن، گٹار، میڈولین، بینجو، ہارمونیم اور پیانو کا بھی ساتھ دے سکتا ہے۔ پاکستان میں طبلے کے بہت بڑے اُستاد میاں شوکت حسین ہوئے ہیں جن کے شاگرد اس وقت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جن میں تاری خان، محمد اجمل، سجاد علی، نفیس احمد ان کے بھائی جان الحسن اور بیٹے رضا شوکت شامل ہیں۔ انھی شاگردوں میں واجد علی بھی شامل ہیں جنھوں نے اس فن کو نئی نسل تک پہنچانے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور موسیقی کی تدریس کے ایک نجی ادارے میں طبلہ سکھانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ہمیں بھی ان کی ایک کلاس میں جانے کا اتفاق ہوا ہم نے دیکھا کہ ایک سفید فام نوجوان انتہائی خشو و خضوع سے طبلے کی مشق میں مصروف ہے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ ایک فرانسیسی نوجوان ہے اور بیلجئم میں ایک ایسی میوزک کمپنی کے لئے کام کرتا ہے جو جپسی موسیقی اور ہندوستانی موسیقی کے نمونے یکجا کر رہی ہے۔ اس غیر ملکی کو طبلہ سیکھتے ہوئے دیکھ کر جہاں بے پناہ مسّرت ہوئی وہیں خوف کی ایک لہر بھی دل میں دوڑ گئی کہ کیا ہمارے کلاسیکی سازوں کا مستقبل اب محض یورپی عجائب خانوں سے وابستہ ہو کے رہ جائے گا؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||