BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 December, 2005, 01:27 GMT 06:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نوشاد کا نورجہان کو خراجِ تحسین

نوشاد صاحب نےملکہ ترنم نورجہاں کی ایک ہی فلم ’انمول گھڑی‘ کی موسیقی ترتیب دی
بھارتی فلمی صنعت کے عظیم موسیقار نوشاد نے نورجہان کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

بی بی سے اردو ڈاٹ کام سے ایک خصوصی ملاقات میں اپنی پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ دور تھا جب یادگار اور سدا بہار فلمیں بنتی تھیں اور عظیم فنکار ہوا کرتے تھے۔

نوشاد صاحب نےملکہ ترنم نورجہاں کی ایک ہی فلم ’انمول گھڑی‘ کی موسیقی ترتیب دی لیکن یہ فلم نوشاد کی موسیقی ملکہ ترنم نورجہاں کی اداکاری اور ان کی گلوکاری کی وجہ سے آج بھی بالی وڈ کی یادگار فلموں میں شمار ہوتی ہے۔

نوشاد صاحب کے مطابق فلم ’انمول گھڑی‘ کا گیت ’آواز دے کہاں ہے‘ نورجہاں کی خوبصورت آواز کی وجہ سے ہمیشہ یاد رہے گا۔

’نورجہاں کو بھی اپنا وہی گیت بہت پسند تھا اور وہ اپنے ہر پروگرام کا آغاز اسی سے کیا کرتی تھیں۔وہ خود جتنی خوبصورت تھیں ان کی آواز اس سے زیادہ سریلی تھی۔ ملک کی تقسیم کے بعد وہ پاکستان چلی گئیں لیکن ہمیشہ وہاں سے فون کرتیں اور پھر رو پڑتی تھیں۔‘

تقسیم سے پہلے کے دور میں خاندان، انمول گھڑی اور جگنو نورجہان کی معرکۃ الاراء فلمیں کہلائیں
’یہ فلم انڈسٹری کا گولڈن جوبلی سال تھا اور اس سلسلے میں شان مکھانند ہال میں ایک تقریب کا انعقاد ہوا تھا جس میں تمام پرانے فنکاروں کو مدعو کیا گیا تھا۔ دلیپ کمار، پران، دیو آنند، راجکپور، شمشاد بیگم، سلیم درانی اور پھر پاکستان سے نورجہاں کو مدعو کیا گیا۔ہم انہیں ایئر پورٹ لینے گئے تھے۔ پروگرام میں ہر فنکار سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنا اپنا گیت پیش کرے گا ۔سب فنکار آرہے تھے اور تالیوں کے ساتھ ان کا خیر مقدم ہو رہا تھا۔ نورجہاں کا نمبر آیا اور انہوں نے جیسے ہی ’آواز دے کہاں ہے‘ گنگنایا پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور ان کے احترام میں لوگ کھڑے ہو گئے۔اتنا پیار اور اتنی عزت افزائی دیکھ کر نورجہاں کی آنکھیں بھر آئیں۔

نورجہاں چند روز ممبئی میں رہیں اور انہوں نے ہم سے اپنا وہ گھر دیکھنے کی خواہش ظاہر کی جس میں وہ تقسیم سے پہلے رہتی تھیں۔ ہم سب ساتھ گئے۔ چوپاٹی کا علاقہ تھا۔اس گھر میں پہنچ کر اس گھر سے وابستہ نورجہاں کی تمام یادیں تازہ ہو گئیں۔ انہوں نے گھر کا ایک ایک کونہ پکڑا اور رونے لگیں۔ دراصل ایک تو فنکار جذباتی ہوتا ہے اور دوسرے انسان اپنا بچپن اور اس سے جڑی یادیں کبھی بھول نہیں پاتا۔ یہی نورجہاں کے ساتھ ہوا۔‘

’وہاں سے ہم سب دلیپ کمار کے گھر گئے۔نورجہاں نے وہاں پہنچ کر کہا کہ وہ آج اپنے ہاتھوں سے کھانا پکا کر کھلائیں گی۔ پھر اس روز انہوں نے کچن سنبھالا۔ کھانا تیار ہوا۔وہ شام ہمارے لئے اور نورجہاں کے لئے ایک یادگار شام تھی۔ عظیم فنکاروں اور اچھے انسانوں کے ساتھ گزارے لمحے وقت کے حسین لمحے بن جاتے ہیں۔اب یہاں نہ ایسے انسان ہیں اور نہ ہی ایسے فنکار۔

مینوں رونا پنچ دریاواں
نورجہاں کی پانچویں برسی پر خصوصی ضمیمہ
یادیں قیمتی سرمایہ
نورجہاں کی برسی پر وجاہت عطرے کی تحریر
ہمہ جہت فنکارہ
نورجہاں کے فن کے کئی رنگ اچھوتے رنگ
نور جہاننور جہان کی برسی
ملکہ ترنم سے آپ کی کون سی یادیں وابسطہ ہیں؟
اسی بارے میں
راہی، راہئ ملک عدم
02.09.2002 | صفحۂ اول
شاہدہ پروین چلی گئیں
15.03.2003 | صفحۂ اول
ولایت خان چل بسے
16 March, 2004 | آس پاس
بولی وڈ کا شریف سیاستدان
25 May, 2005 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد