میڈم کی یادیں قیمتی سرمایہ ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ بیتے ہوئے دنوں کی کہانی میں اپنے والد رشید عطرے مرحوم سےشروع کروں گا۔ نورجہاں نے فلم انارکلی میں اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری بھی کی اورمیرے والد رشید عطرے نے اس فلم کے گانوں کی موسیقی ترتیب دی۔ اس فلم کے سب کے سب گانے ہٹ ہوئے۔ ان گانوں میں ’بانوری چکوری کرے دنیا سے چوری چوری‘، ’صداہوں اپنے پیار کی‘ اور ’پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ رشید عطرے کی ساتھ نورجہان کی دوسری فلم ’نیند‘ تھی۔ اس فلم میں بھی نورجہاں نے اداکاری بھی کی اور گلوکاری بھی۔ اس فلم کے گانے بھی بہت مقبول ہوئے۔ اس فلم کے مشہور گانوں کے بول تھے’ تیرے در پہ صنم چلے آئے‘، ’چھن چھن باجے پائل۔ پھر رشید عطرے کی فلم سلمی کا ایک گیت نورجہان کی آواز میں بہت مقبول ہوا۔اس گانے کے بول تھے’زندگی ہے یا کسی کا انتظار۔ اس کے بعد فلم قیدی بنی اس کے گانے بھی بہت مقبول ہوئے خصوصا فیض احمد فیض لکھی ہوئی نظم ’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘۔ رشید عطرے نے ذاتی فلم ’موسیقار‘ بنائی- اس فلم کے مشہور گانو ں میں’ گائے گی دنیا گیت میرے ‘، ’تم جگ جگ جیو مہاراج‘، ’رسیلے مورے رسیا نجریا ملا‘ شامل تھے- اس کے بعد فلم بہشت بنی جس کا میوزک بھی رشید عطرے نے دیا اور گانے نورجہاں نے گائے۔ اس فلم کا گانا ’ستارو میری راتوں کے سہارو ‘ بہت ہٹ ہوا۔ پھر فلم ’سوال‘ آئی اس کے مشہور گیتوں میں’ارے او بے مروت ارے او بے وفا‘ لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم‘ شامل تھے- پھر فلم’محل‘ آئی اس کے گانے بھی نورجہاں نے گائے اور رشید عطرے موسیقار تھے۔ اس کا ایک گانا’ جیا را ترسے دیکھن کو‘ بہت مقبول ہوا۔ پھر پنجابی فلم ’مرزا جٹ‘ بنی- اس کے موسیقار بھی رشید عطرے تھےاور گانے نورجہاں نے گائے-اس فلم کا یہ گانا’ سنجے دل والے بوہے اجے میں نییوں ڈھوئے‘ بہت مشہور ہوا۔ یہاں تک تو تھی میڈم کی میرے والد رشید عطرے کے ساتھ رفاقت۔ پھر جب والد صاحب کا سن انیس سو اڑسٹھ میں انتقال ہو گیا تو میڈم کے گانوں کا میوزک میں نے ترتیب دینا شروع کر دیا۔ میری ان کے ساتھ پہلی فلم’نکے ہوندیاں دا پیار‘تھی۔اس کا گانا ’آندا تیرے لئی ریشمی رومال ‘ بہت مشہور ہوا۔ اس کے بعد میری ان کے ساتھ فلموں ’تیرے عشق نچایا‘ عشق نہ پچھے ذات‘ کے گیت بھی بہت مقبول ہوئے۔ انیس سو بیاسی میں میری تین فلمیں’ شیر خان‘، ’سالا صاحب ‘ اور ’چن وریام‘ ریلیز ہوئیں جن کے اکیس گانے میڈم نے گائے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام گانے ہٹ ہوئے۔ جن میں ’جھانجھریا پہنا دو‘، ’میں تے میرا دلبر جانی‘ اور ’وے سونے دیا کنگناں‘ شامل تھے۔ اس کے بعد بھی میں نے ان کے ساتھ متعدد فلمیں کیں جن میں’ صاحب جی‘، ’کلیار‘، ’راکا‘، ’قدرت‘، ’سونا چاندی‘ اور ’کالے چور‘ شامل ہیں۔ انیس سو چورانے میں میری تاجپوشی ان کے ہاتھوں سے ہوئی۔میڈم کی آواز قدرت نے کچھ اس طرح بنائی تھی کہ انہوں نے جو گانا بھی گایا وہ ہٹ ہوا۔ ان کی آواز میں وہ خوبی تھی جو کسی دوسری آواز میں نہیں۔ ان کے گلے میں قدرت نے سروں کا ایک گلدستہ فٹ کر رکھا تھا یہی وجہ تھی کہ انہوں نے کبھی کمزور سر نہ لگایا۔ وہ گلے کے زور سے نہیں بلکہ سینے کے زور سے گاتی تھیں۔ چونکہ انہوں نے استادوں سے بہت کچھ سیکھا تھا اس لیے اگر کوئی راگ ہم چھیڑتے تھے تو انہیں اس کی اروہی امروہی کا علم ہوتا تھا۔ انکی آواز میں اتنی لچک تھی کہ ٹیپ کا سر بھی بڑی آسانی سے لگاتی تھیں۔ تان، سرگم اور الاپ بخوبی لگاتی تھیں۔ میرے ساتھ انہوں نے چھبیس برس گزارے- یہ عرصہ میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے۔ ان کی شخصیت بہت پرکشش تھی اور وہ بہت حساس تھیں۔ میرے ساتھ بہت پیار کرتی تھیں۔ وہ اب ہم میں نہیں رہیں مگر ان کا کام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ نورجہاں کی پانچویں برسی کے موقع پر پاکستان کے نامور موسیقار وجاہت عطرے کی خصوصی تحریر |
اسی بارے میں نوشاد کا نورجہان کو خراجِ تحسین20 December, 2005 | فن فنکار نورجہاں کی یاد دلوں میں زندہ ہے23 December, 2003 | فن فنکار ملکہ کی جانشینی کےلئےدوڑ09 August, 2002 | صفحۂ اول تیرے چرچے گلی گلی23 December, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||