BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 December, 2004, 13:25 GMT 18:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیرے چرچے گلی گلی

ملکہ ترنم نورجہاں
ملکہ ترنم نورجہاں
انیس سو اٹھانوے میں ملکہ ترنم نورجہاں نے فلم سخی بادشاہ میں اپنا آخری فلمی گیت گایا ’ کی دم دا بھروسہ یار، دم آوے نہ آوے‘ اور دو سال بعد تئیس دسمبر سنہ دو ہزار کو طویل علالت کے بعد کراچی میں تہتر برس کی عمر میں وہ آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی جو بڑے بڑے موسیقاروں کی دھنوں کو زندہ و جاوید کر دیا کرتی تھی۔ آج ملکہ ترنم نورجہاں کی چوتھی برسی ہے۔

نورجہاں انیس سو اڑتیس سے انیس سو اٹھانوے تک ساٹھ سال پیشہ ور گلوکارہ کے طور پر اپنی آواز سے لوگوں کو مسحور کرتی رہیں۔ نورجہاں کا نام ان کے والدین نے اللہ وسائی رکھا تھا۔ وہ لاہور کے قریب قصور میں ستمبر انیس سو چھبیس میں پیدا ہوئیں اور ان کے والدین بھی موسیقی کے پیشے سے وابستہ تھے۔ ان کے اولین استادوں میں استاد غلام محمد شامل تھے تاہم ان کی فلمی موسیقی کو موسیقار ماسٹر غلام حیدر نے چمکایا جو لتا منگیشکر کے بھی ابتدائی موسیقار رہ چکے تھے۔

انیس سو پینتیس میں آٹھ سال کی عمر میں نور جہاں کلکتہ چلی گئیں جو ان دنوں فلموں اور اسٹیج کا برصغیر میں مرکز تھا۔ یہاں وہ بےبی نورجہاں کے طور پر اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے لگیں اور پھر فلموں میں آئیں۔ پنجابی فلموں کے باپ کہلائے جانے والے کرشنا دیو مہرا نے نور جہاں کو اپنی فلم شیلا عرف پنڈ دی کڑی میں چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر متعارف کرایا اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔ انہوں نے گیارہ فلموں میں کام کیا اور تین سال تک کلتہ میں رہیں۔

گل بکاؤلی، سسی پنوں، یملا جٹ، چودھری ان کی انیس سو انتالیس اور چالیس کی ابتدائی فلمیں ہیں جو دل سکھ پنولی نے بنائیں۔ وہ بطور اداکارہ اور گلوکارہ کام کرتی تھیں اور ’شالا جوانیاں مانیں‘ گا کر اسٹار بن چکی تھیں لیکن جس گانے نے پنجاب بھر میں ان کے نام کی دھوم مچا دی وہ تھا ماسٹر غلام حیدر کی موسیقی پر گایا ہوا ان کا گانا ’بس بس وے ڈھولنا‘۔ ماسٹر غلام حیدر نے ہی انہیں خزانچی فلم میں صرف پلے بیک گلوکارہ کے طور پہلی بار استعمال کیا تھا اور اس گانے کو کسی اور اداکارہ پر فلمایا گیا تھا۔

پاکستان بننے سے پہلے نورجہاں نے کئی سپرہٹ فلموں میں ہیروئین کے طور پر کام کیا۔ انیس سو بیالیس میں ان کی بےحد مقبول فلم خاندان ریلیز ہوئی جس کے ہدایتکار بعد میں ان کے پہلے شوہر بننے والے شوکت حسین رضوی تھے۔

اس فلم کا گانا ’تو کون سی بدلی میں ہے میرے چاند آجا‘ بہت مقبول ہوا۔ اب نورجہاں کا شمار کانن دیوی اور خورشید جیسے ستاروں میں ہونے لگا۔ شوکت حسین رضوی کے ساتھ ہی انہوں نے فلم زینت میں کام کیا جس میں ان کی زہرا بائی انبالے والی کے ساتھ گائی ہوئی قوالی بہت پسند کی گئی۔ یہ برصغیر میں کسی فلم میں خواتین کی گائی ہوئی پہلی قوالی تھی۔ تقسیم ہند سے بالکل پہلے دلیپ کمار کے ساتھ ان کی فلم جگنو نمائش کے لیے پیش ہوئی۔

پاکستان بننے کے بعد اعجاز حسین سے دوسری شادی کرنے تک وہ تقریباً بارہ سال تک فلموں میں ہیروئین اور گلوکارہ دونوں حیثیتوں میں کام کرتی رہیں۔ دوپٹہ، گلنار، انتظار، لخت جگر، کوئل، نیند ان کی مشہور فلموں میں شامل ہیں۔ بعد میں وہ صرف پلے بیک سنگر کے طور کام کرتی رہیں۔

نورجہاں کی آواز کی معصومیت، سوز اور اونچے سروں میں اس کی گونج ایسی خصوصیات ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان میں کوئی گلوکار ان کی نقل نہیں کرسکا۔ ان کے گائے ہوئے گانے لازوال ہیں۔ ان کا جذبہ حب الوطنی بھرپور تھا اور فوج کے لیے ان کے گائے ہوئے گیت مثلاً ’میرے وطن کے سجیلے جوانو‘ اور ’اے پتر ہٹاں تے نہیں وِکدے‘ دلوں کوگرماتے رہے۔

ُن کے گائے ہوئے ہزاروں گانوں میں سے چند کی فہرست پر ہی نظر ڈالیے تو یہ بذات خود ان کے لیے خراج تحسین ہے۔

باولی چکوری دنیا سے چوری چوری (انارکلی)، سدا ہوں اپنے پیار کی (انارکلی)، چاندنی راتیں (دوپٹہ)، رم جھم رم جھم پڑے پھوار (کوئل)، او بے وفا میں نے تجھ سے پیار کیوں کیا (کوئل)، گائے گی دنیا گیت مرے (موسیقار)، بڑی مشکل سے ہوا ترا مرا پیار پیا (لاکھوں میں ایک)، چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دے (دوستی)، مری زندگی ہے نغمہ (سالگرہ)، او جانے والے رے ذرا (انتظار)، تو جہاں کہیں بھی جائے مرا پیار یاد رکھنا (انسان اور آدمی)، کچھ لوگ روٹھ کر بھی (عندلیپ) ، سیوں نی مرا ماہی (مستانہ ماہی)۔

اسی بارے میں
ملکہ کی جانشینی کےلئےدوڑ
09 August, 2002 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد