میڈم نورجہاں کے کئی رنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملکہِ ترنم نورجہاں پاکستان کے ان فنکاروں میں ہے جن کے بارے میں ان کی زندگی میں بہت کم لکھا گیا اور اگراس عظیم فنکارہ پر کسی نے قلم اٹھایا بھی تو اس کا موضوع ان کی شخصیت بنی نہ کہ ان کا فن۔ میڈم نورجہاں پر لکھی جانے والے پہلی کتاب ’نورجہاں سرور جان‘ تھی جس کا موضوع تقسیم سے پہلے ممبئی کی فلم نگری میں ان کے شب و روز تھے۔بعد میں شوکت حسین رضوی کے طویل انٹرویو پر مبنی منیر احمد منیر کی کتاب ’نورجہاں کی کہانی میری زبانی‘ آئی جس کا بظاہر مقصد نورجہاں پر کیچڑ اچھالنے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ اگر عام گفتگو میں بھی نورجہاں پر بات کی جاتی ہے تو ان کی فنکارانہ عظمت کو ثابت کرنے کے لیے دلیل آدھی صدی پہلے تقسیم سے قبل بننے والی ان کی فلموں ’خاندان‘، ’انمول گھڑی‘، ’زینت‘ یا ’جگنو‘ سے لائی جاتی ہے۔ بتانا یہ مقصود ہوتا ہے کہ نورجہاں بڑی فنکارہ اس لیے ہے کہ اس نےہدایت کار محبوب کی فلم ’انمول گھڑی‘ میں موسیقار نوشاد کی کمپوز کیے ہوئے گیت گائے یا شوکت حسین رضوی کی فلم ’جگنو‘ میں دلیپ کمار کے مقابل ہیروئن آئیں۔ دوسرے لفظوں میں موسیقار نوشاد یا دلیپ کمار کی مسلمہ عظمت کو دلیل بنا کر نورجہاں کی عظمت کا سکہ بٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس دور کی بھی بات کرتے ہوئے کوئی ماسٹر غلام حیدر یا فیروز نظامی کا نام نہیں لیتا کیونکہ گھر کی مرغی تو دال برابر ہی ہوتی ہے۔ اور اگر بات تقسیم سے بعد کی بھی ہو تو گفتگو نورجہان کی فلموں ’دوپٹہ‘، ’گلنار‘، ’انتظار‘، ’انار کلی‘ اور ’کوئل‘ سے آگے نہیں بڑھتی۔ اس ساری صورتِ حال میں یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ نورجہان کی فنکارانہ زندگی تو ساٹھ یا ستر کی دہائی میں اختتام پذیر ہو جاتی ہے باقی جو کچھ ہے وہ تو سب عامیانہ ہے۔ لیکن بات ایسی نہیں ہے۔ نورجہاں کی فنی شخصیت کوئی ایسی نہیں ہے جس کے ساتھ ایک زبان میں کیے گئے ان کے کام کو بنیاد بنا کر انصاف کیا جا سکے۔ ان کی فنی شخصیت ہمہ جہت خوبیوں سے مالا مال ہے اور اس کی جس پہلو سے بھی جائزہ لیا جائے نورجہاں کی فنکارانہ عظمت اور ان کے ہم عصروں میں ان! کا قد اور بڑھ جاتا ہے۔ نورجہاں کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے خود کو پاکستانی فلم انڈسٹری کے بدلتے ہوئے مزاج کے مطابق ڈھالا اور شاید اِسی لیے وہ اپنے آخری ایام تک فلم انڈسری میں آؤٹ ڈیٹڈ یا غیر متعلق نظر نہیں آئیں بلکہ اس کی ہر پہلو سے ایک ضرورت بنی رہیں۔ آپ ذرا نور جہاں کے گائے ہوئے گانوں ان کی اس فہرست پر نظر ڈالیں: وے سونے دیا کنگنا (چن وریام)، وے ایک تیرا پیار (سالا صاحب)، سونے دی تویتڑی (شعلے)، دوروں دوروں اکھیاں مارے منڈا پٹواری دا (دبئی چلو)، مینو رکھ لےکلینڈر نال (اِک پتر دا ویر)، سونے دی نتھلی (مسٹر افلا طون) اور توں جے میرے ہمیشہ کول (شیرخان)۔ نورجہاں کے کچھ چاہنے والوں کو اوپر درج کیے گئے پنجابی گیت عامیانہ لگیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موسیقی کے دیوانوں کی ایک بڑی تعداد نورجہاں کو انہیں گانوں کی وجہ سے چاہتی ہے۔ اب ذرا اس فہرست کو ملاحظہ فرمائیں: حسینی لعل قلندر (آسُو بِلا)، بری بری امام بری (سجن بے پرواہ)، ہو لعل میری پت رکھیو (دلاں دے سودے)، شہباز کرے پرواز (ماں تے ماما)، سہون دے سرکار (خانزادہ)، آئی آں دوارے (دنیا پیار دی) اور رکھ لاج میرے لجپال (تہاڈی عزت دا سوال اے)۔ یہ قلندری دھمالیں بھی پنجاب، سندھ اور صوبہ سرحد میں آبادی کا ایک بڑا طبقہ بڑے ذوق و شوق سے سنتا ہے۔ وہ صرف اسی نورجہاں کو جانتی ہے جو اس دھمالوں کے ذریعے ان تک پہنچتی ہے۔ میڈم نورجہاں کے فن موسیقی کا ایک اور پہلو ان نے گائے ہوئے گیت اور غزلیں ہیں۔ ان میں مرزا غالب کی غزل ’میں ہوں مشتاقِ جفا مجھ سے جف اور سہی‘ ہو یا داغ دہلوی کی ’لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے‘ یا پھر احمد راہی کی ’دل کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچے‘نورجہاں نے جس غزل کو بھی چھیڑیا اس کی گائیکی میں اپنا ہی رنگ چھوڑا۔ نورجہاں کو اس بات کی بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے پنجاب کے داستانوی لوک ادب میں ایک نئی زندگی دی ہے اور نئی نسل کو اس سرمایے سے روشناس کیا ہے۔ پاکستان میں ہو سکتا ہے بہت سوں نے وارث شاہ کی ’ہیر‘ یا حافظ برخوردار کی ’مرزا صاحباں‘ نہ پڑھی ہو لیکن وہ نورجہاں کے گائے ہوئے لازوال گیتوں ’سنجے دل والے بوہے اجے میں نہیوں ڈھوے‘، ’سن ونجلی دی مٹھڑی تان وے‘ اور ’او ونجھلی والڑیا تو تاں موہ لئی آ مٹار‘ کے ذریعے پنجاب کی ثقافتی رنگوں سے ضرور آشنا ہو ئے ہوں گے۔ | اسی بارے میں نورجہاں کی یاد دلوں میں زندہ ہے23 December, 2003 | فن فنکار نوشاد کا نورجہان کو خراجِ تحسین20 December, 2005 | فن فنکار تیرے چرچے گلی گلی23 December, 2004 | صفحۂ اول میڈم کی یادیں قیمتی سرمایہ ہیں20 December, 2005 | فن فنکار ملکہ کی جانشینی کےلئےدوڑ09 August, 2002 | صفحۂ اول نورجہاں کا کیریئر ایک نظر میں21 December, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||