| | نورجہاں نے چھبیس فلموں میں مرکزی کردار ادا کیا۔ |
ملکہ ترنم نور جہان کی آج پانچویں برسی ہے۔ چھ دہائیوں پر محیط اپنے فنی کیریئر میں نور جہان نے تقسیم سے پہلے بھارت میں فلموں میں کام کیا اور بعد میں پاکستان کی ہی نہیں بلکہ برصغیر کی مقبول ترین گلوگارہ کے روپ میں نمایاں ہوئیں۔ اپنے فنی سفر کے دوران نورجہاں نے چھبیس فلموں میں مرکزی کردار ادا کرنے کے علاوہ ہزار کے قریب فلموں کے لیے گانے گائے۔ نور جہان سے آپ کی کون سی یادیں وابسطہ ہیں؟ آپ کے خیال میں نور جہان نے برصغیر میں موسیقی کے حوالے سے کیا کردار ادا کیا؟ نور جہان کا گایا ہوا کون سا گیت آپ کا پسندیدہ گیت ہے اور کیوں؟ یہ فورم اب بند ہوچکا، قاریئن کی آراء نیچے درج ہیں۔
صوبیہ مخدوم، لاہور، پاکستان: کچھ لوگ اس دنیا میں صرف ایک مرتبہ پیدا ہوتے ہیں، جیسا کہ تان سین، بدھا، قائداعظم۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو کلون کرلینا چاہیے کیونکہ ہمیں یہ لوگ ہمیشہ چاہیں۔ نور جہاں نے بے شمار گانے گائے لیکن مجھے ان کا یہ گانی بہت پسنا ہے ’میں تے میرا دلبر جانی‘۔ یہ پنجابی کا سب سے اچھا گانا ہے جیسا کہ انگلش میں ’ایویری تھینگ آئی ڈو‘۔ آپ اس گانے میں رومانس محسوس کر سکتے ہیں۔ محمد آصف چودھری، کینیڈا نور جہاں ایک نور تھیں۔ ہمیشہ نور رہیں گی۔ لیکن مجھے رہتی دنیا تک افسوس رہے گا کہ لاہور کی نور جہاں کو کراچی کے گم نام قبرستان میں دفن کیا گیا ہے۔ نور جہاں کو مقبرہ ِجہانگیر یا شالامار باغ میں دفن کرنا انتہائی ضروری تھا۔ نور جہاں کو ان کی شان کے مطابق پذیرائی نہیں دی گئی۔ شفیق اعوان، سرگودھا، پاکستان: میری عمر ساٹھ سال ہے۔ میں نے آنکھ کھولی تو اپنے گھر میں والد کے گراموفون پر یہ گانا سنا ’یہاں بدلہ وفا کا‘۔ اس حوالے سے مجھے نور جہاں ہمیشہ یاد رہیں گیں۔ خاص کر یہ گانا ’کل تک جو کہتے تھے اپنے‘ بہت خوبصورت گانا ہے۔ خلیل خان، سعودی عرب: دنیا میں دو نور جہاں تھیں ایک ہندستان کی ملکہ اور دوسری موسیقی کی ملکہ میڈم نور جہاں، جس نے برصغیر کواپنی آواز سے فتح کر لیا وہ پہلی والی ملکہ سے بھی عظیم تھیں۔ علی رضا بلوچ، فیصل آباد، پاکستان: نور جہاں کے نام پر اکیڈیمی ہونی چاہیے پاکستان میں۔ بابر راجہ، جاپان: ابھی میری عمر چونتیس سال ہے بچپن سے نور جہاں کو ریڈیو پر سنتے تھے ۔ میں نے 1992 میں سنگاپور جاتے ہوئے جہاز میں ”دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا‘ اور’مجھ سے پہلی سی محبت نہ مانگ‘ سنے اور بہت مزہ آیا۔ آج بھی میرے پاس میڈم کے پرانے گانوں کی البم ہے اور جب بھی میں کسی سے ان کا ذکر کرتی ہوں تو یہ کہہ کر یاد کرتی ہوں کہ اللہ میڈم کو جنت میں جگہ دے۔ صابر خٹک، کوہاٹ، پاکستان میڈم نور جہاں کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہو گی گلوکارہ کے لحاظ سے وہ خوش قسمتی سے پاکستان کو انمول موتی ملی تھیں اور ملکہ ترنم نور جہاں نے 65 کی پاک انڈیا جنگ میں جن نغموں سے جوانوں میں جذبہ پیدا کیا تھا وہ کردار کوئی اور گلوکارہ ادا نہیں کر سکتی۔ مجھے میڈم نور جہاں کا وہ گانا بہت ہی پسند ہے ’ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں‘۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ ان کو جنت میں جگہ نصیب کرے۔ آمین قمر عباس سید، بکھر، پاکستان: میں نے زندگی میں صرف نور جہاں کو ایسا گلوکار پایا کہ ان کی گلوکاری کے آغاز سے لے کر آخری عمر تک ان کی آواز میں مٹھاس اور سریلے پن میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا۔ جس کی صرف وجہ یہ تھی کہ انہوں نے دل سے، مخلصی سے گلوکاری کی اور پیشہ وری کو نذدیک ٹپکنے نہیں دیا۔ ’آواز دے کہاں ہے دنیا میری جواں ہے‘ ان کا یہ گانا بہت پسندہے۔ کیونکہ اس گانے سے مجھ پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی، یو اے ای: نور جہاں ترنم کی ملکہ تو تھیں لیکن اپنی سادہ طبیعت کی وجہ سے بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ ہم دنیا داروں کی دنیا جو صرف یہی سمجھتی ہے کہ پانچ دفعہ ماتھا ٹیک کر اور نماز روضہ کر کے عبادت گزار ہو گئے ہیں۔ ظاہری طور پر گانے بجانے کی وجہ سے ان کو کسی بھی نظر سے دیکھتے ہوں اور جو بھی سمجھتے ہوں آپ کو پتہ ہی ہو گا کہ ان کی وفات ستائیس رمضان کو ہوئی۔ ساجد عثمان، لاہور، پاکستان: میڈم کو زبان سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے یاد کیا جاتا ہے، اللہ نے ہمیں انمول موتی بخشا تھا اور ایسا دوبارہ نہیں مل سکتا۔ عبدالغفار، ملتان، پاکستان: میں گزارش کرتا ہوں کہ ہمیشہ میڈم نور جہاں کی برسی منائی جائے، یہ بہت اچھا خیال ہے۔ دلدار اسلم، دبئی، یو اے ای: نور جہاں کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ دوسری نور جہاں کبھی پیدا نہیں ہو گی۔ زاہد عثمان، کویت: کون سے گیت بتاؤں اور کیا خطاب دوں جب کسی کو ملکہ کا خطاب مل جائے تو اس سے بڑا خطاب مل نہیں سکتا اور نہ ہی کسی کو ملے گا۔ ان کے سب گانے بہت ہی خوبصورت ہیں، خاص طور پر 65 کی جنگ میں جو ترانے گائے وہ لاجواب ہیں سنتے ہی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے سارا واقعہ ہمارے سامنے ہو رہا ہو۔ طارق محمود راجہ، یو اے ای: وہ ایک قومی گلوکارہ تھیں اور ان کے قومی نغمے ابھی بھی میرے دل میں ہیں۔ امین اللہ شاہ، پاکستان: مجھے فلم ’انمول گھڑی‘ کا یہ گانا بہت پسند ہے۔ ’ہمیں تو شامِ غم میں کاٹنی ہے زندگی‘ کیونکہ میرے والد صاحب یہ گانا بہت پسند کرتے ہیں۔ تنویر رزاق، فیصل آباد، پاکستان ’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘، فیض احمد فیض صاحب کا یہ گیت میڈم نے گا کر اسے چار چاند لگا دیے۔ میڈم ہیں ہی داد و تحسین کی حقدار۔ جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ ایک عظیم گلوکارہ تھیں اور 1965 کی پاک بھارت جنگ میں ان کا قردار بےمثال ہے اور اس کے بعد ان کو ایک قومی شخصیت کے طور پر جانا گیا۔ وہ صدیوں عوام کے دلوں پر راج کریں گی۔ وہ بے ضرر اور خوبصورت شخصیت کی مالک تھیں۔ شہریار خان، سنگاپور: نور جہاں ایک عظیم گلوکارہ اور ایک عظیم شخصیت تھیں جنہوں نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں سے برصغیر میں بسنے والے تمام لوگوں کو متاثر کر دیا تھا اورمو سیقی کی دنیا میں ہمیشہ ان کا ایک مقام ہے اور رہے گا۔ نور جہاں کو عام لوگوں سے لے کر اعلیٰ عہدیدار اور مشہور شخصیات نے دل سے اور عقیدت کے مقام تک چاہا تھا۔ نور جہاں نے اپنے اور غیر سب کو ’ میرے نغمے تمہارے لیے ہیں‘ گا کر اپنا ہمنوا بنا لیا تھا۔ پاکستان اور برصغیر میں لوگوں کو ان کی یاد میں ایک اعلیٰ سطح کا اعزام قائم کرنا چاہیے تا کہ موسیقی کو ایک اعلیٰ مقام عطا ہو اور اس کا نام ’موسیقی کا نور‘ دیا جائے۔ ہارون راشد، سیالکوٹ، پاکستان: جس سے لتا جیسی گلوکارہ نے گانا سیکھا ہو اس کا مقام آپ خود سوچیں کیا ہو سکتا ہے۔ نور جہاں بلا شبہ برصغیر کی عظیم گلوکارہ تھیں۔ مجھے ان کے کافی گانے پسند ہیں لیکن یہ غزل بہت پسند ہے۔’ کبھی کتابوں میں پھول رکھنا، کبھی درختوں پہ نام لکھنا‘۔ اسحاق ملک، ملتان، پاکستان: فلم جگنو کےلیے نور جہاں کا گانا بہت پسند ہے جو انھوں نے محمد رفیع کے ساتھ گایا تھا۔ ’یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے‘، کیونکہ یہ گانا آج بھی اسی طرح صحیح ثابت ہوتا ہے جیسے آج سے نصف صدی پہلے تھا۔ محمد عارف راجہ، ہالینڈ: نور جہاں ابھی بھی میری پسندیدہ گلوکارہ ہیں۔ ہیر رانجھا کے گیت میرے پسندیدہ گیت ہیں۔ قدیر قریشی، ٹورانٹو، کینیڈا: نور جہاں کے انتقال کا سب سے بڑا نقصان پاکستان آرمی کو ہوا۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ اب جنگ کیسے جیتیں گے۔ افتخار احمد کشمیری، نامعلوم: گائے گی دنیا گیت میرے۔۔۔۔ اس لیے اچھا لگتا ہے کہ نور جہاں کے مرنے کے بعد ان ہی کے لیے گایا جا سکتا ہے۔ شاہ شفیق پرویز، اٹک، پاکستان: نور جہاں آواز کی ملکہ تھیں ان کی آواز میں پنجابی کے لہجے کی خوشبو تھی۔ ان کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی۔ مجھے ان کا گانا ’اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے توں لبدی پھریں بازار کڑے‘ پسند ہے۔ آصف محمود میاں، لاہور، پاکستان: میں بہت چھوٹا تھا تو سمجھتا تھا کہ ملکہ نور جہاں مر چکی ہیں پر ابھی تک ریڈیو پر گاتی ہیں۔ ہوش سنبھالا تو علم ہوا کہ ملہ ترنم نور جہاں وہ ہیں جو موسیقی کی ملکہ ہیں۔ غالباً چودہ یا پندرہ سال کا تھا کہ شاہنور سٹوڈیو یا باری سٹوڈیو میں گانا سننے کا اتفاق ہوا، میں نے نور جہاں کو اپنے سامنے گاتے دیکھا، وہ حقیقی ملکہ لگ رہی تھیں۔ اس سے پہلے سن 65 کی جنگ میں ان کے گائے ہوئے گیت گنگناتا رہتا تھا خاص طور پر ’اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے‘ اور ’اے وطن کے سجیلے جوانوں، میرے نغمے تمھارے لیے ہیں‘ بہت ہی اچھے لگتے تھے بلکہ ابھی تک لگتے ہیں۔ امتیاز احمد خان، کراچی، پاکستان: جوش اور ولولہ اپنے گیتوں کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا، جو بڑی سے بڑی طاقت اور کسی بھی ملک کی اپنے دفاع کے لیے نہایت مشکل کام ہے۔ ایسی خاتون کو دعاؤں میں یاد رکھنا ہمارا فرض ہے۔ |