بولی وڈ کا شریف سیاستدان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا میں کسی بھی شخص کے لیے جس کا تعلق فلم اور سیاست کی دنیاؤں سے ہو یہ بڑا مشکل ہے کہ اس کی شہرت بالکل بے داغ ہو۔ اوراگراس شخص کی پیشہ ورانہ زندگی پانچ عشروں پر پھیلی ہوتو یہ بات اور بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ لیکن سنیل دت اس معاملہ میں مختلف تھے۔ فلم کی چکاچوند کر دینے والی دنیا میں کہ جہاں پر بری شہرت اور تکبرانہ رویہ اکثر کامیابی کے ٹکٹ سمجھے جاتے ہیں، سنیل ہمیشہ ایک عزت دار شخص کی حیثیت سے جانے جاتے رہے۔ اورانڈیا کی سیاست کی دنیا میں کہ جہاں کسی شخص کی کامیابی کا اندازہ اکثر اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ لین دین میں کتنا بے اصول ہے، سنیل دت دیانت داری اورحوصلے کی زندہ تصویر تھے۔ سنیل وہ پہلے فلمی اداکار تھے جنہوں نے سیاست کی دنیا میں ایک کامیاب کیریئر بنایا۔ لیکن اپنے بعد آنے والے کئی دوسرے اداکاروں کے برعکس انہوں نے سیاست میں آنے کے لیےاپنی باکس آفس کی کامیابیوں کو استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے دنیائےسیاست میں آنے کے لیے کٹھن راستے کا انتخاب کیا۔ان کی سیاسی زندگی کی ابتدائی سرگرمیوں میں ان کے وہ دورے شامل ہیں جو انہوں نے اسّی کے عشرے کے شروع میں پنجاب میں کیے۔ ان دنوں حقیقت کی دنیا کے بہت کم ہیرو پنجاب جانے کی ہمت کر سکے تھے کیونکہ اس وقت وہاں سکھوں کی علیحدگی پسند تحریک اپنے زوروں پر تھی اور پُر تشدد بھی۔ وہ پہلی دفعہ 1984 میں ممبئی کے شمال مغربی حلقے سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور اس کے بعد مزید چار مرتبہ رکن اسمبلی بنے۔ آخری انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کے بعد انہیں کھیلوں اور نوجوانوں کے امور کا وزیر بنایا گیا تھا۔ 1950 میں سینما کی سکرین پر نمودار ہونے سے پہلے سنیل دت آواز کی لہروں پر سفر کرنے والی ایک معروف آواز بن چکے تھے۔ آل انڈیا ریڈیو پر کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد سنیل نے ریڈیو سیلون کے فلمی نغموں کےمشہور پروگرام ’بناکا گیت مالا‘ میں میزبانی کی۔ اس وقت وہ بلراج دت کے نام سے جانے جاتے تھے۔ان کے فلمی نام ’سنیل دت‘ کو منظر عام پر آنے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ فلمیں دنیا میں ان کی آمد بہت بڑی خبر تھی۔ اس کی وجہ ان کاخوش شکل ہونا اوراچھی اداکاری تو تھے ہی لیکن بالی وڈ کی سب سے زیادہ ہردلعزیز اور جانی پہچانی شخصیت نرگس کے ساتھ ان کی شادی کا بھی اس میں بڑا دخل تھا۔
نرگس جیسی بڑی اداکارہ کے ساتھ ان کی شادی جن حالات میں ہوئی وہ بھی کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔ ’مدرانڈیا‘۔۔ بالی وڈ کی شاہکار فلم جس نے سنیل دت کوفلمی شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا، کی شوٹنگ کے دوران جب سیٹ پر آگ لگ گئی توسنیل دت نےنرگس کی جان بچائی۔ اس واقعہ کے بعد دونوں کے درمیان محبت اور شادی ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ ان کی شادی کی کہانی کسی داستان سے کم نہیں۔ اسی لیے ان کواکثر بولی وڈ کا آئیڈیل جوڑا مانا جاتا ہے۔ 1981 میں کینسر کے ہاتھوں نرگس کی موت سے سنیل کو بہت دھچکا پہنچا تھا۔ اپنی زندگی کے آخری بیس سالوں میں انہوں نے کینسر کےغریب مریضوں کے علاج کے لیے پیسہ اکھٹا کرنے کے سلسلہ میں انتھک کام کیا۔ میری ان سے ملاقات بھی ایک ایسے ہی چیرٹی شو میں ہوئی۔ 1997 میں نیویارک کے ایک انڈین ہوٹل کی جس منزل پرمجھے کمرہ دیا گیا سنیل کا کمرہ بھی اسی منزل پر تھا۔ سنیل دت وہاں پر نرگس میموریل کی فنڈ ریزنگ کی ایک تقریب کے سلسلہ میں آئے ہوئے تھے۔ کینسر کے غریب مریضوں کے لیے رقم جمع کرنے میں وہ کس قدر مخلص تھے اس کا اظہار ان کے اُس ایک ایک لفظ سے ہو رہا تھا جو وہ تقریب میں اپنی تقریر میں کہہ رہے تھے۔ وہ یہ بھی بتا رہے تھے کہ اپنی سادہ مزاجی اوربغیر لگی لپٹی کہہ دینے کی عادت کی وجہ سے کبھی کبھی وہ خود کو سیاست کی دنیا کے لیے فِٹ نہیں سمجھتے کیونکہ ان کے بقول سیاست میں دھوکہ بازی ہوتی ہے۔ اس موقع پر سنیل سےان کے بیٹے سنجے دت کو بمبئی میں فسادات کے بعد غیر قانونی اسلحہ کے جرم میں جیل بھجوا دیے جانے کے بارے میں بھی بات ہوئی۔ یہ ان کے لیے خاصی دکھ انگیز یاد تھی۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ سنیل دت میرے قریبی دوست تھے یا نہیں کیونکہ میں انہیں پندرہ سال سے جانتا ہوں لیکن اس دوران دس بارہ سے زیادہ بار ملا نہیں۔ لیکن وہ ایک اچھے انسان تھے۔ ایک ایساانسان جس کی آپ عزت کرتے ہیں۔ ایک شریف آدمی جو جلد دوسروں پر بھروسہ کر لیتا تھا۔ شاید اس کے پاس چھُپانے کو کچھ تھا ہی تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||