BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 May, 2005, 08:05 GMT 13:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اداکار سنیل دت انتقال کرگئے

News image
سنیل دت کی آخری فلم منّا بھائی ایم بی بی ایس تھی
ہندی فلموں کے مشہور اداکار سنیل دت کا ممبئی میں انکے گھر پرانتقال ہوگیا ہے۔ مسٹر دت منموہن سنگھ حکومت میں کھیل کے مرکزی وزیر تھے۔ اطلاعات کے مطابق سنیل دت کو دل کا دورہ پڑا ہے۔ وہ پچھتر برس کے تھے۔ سنیل دت کے گھر کے ایک ملازم کے مطابق انکے پیشاب کی شکایت تھی اور وہ گزشتہ تین روز سے بیمار تھے۔

سنیل دت کے انتقال کی خبر آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی اور باندرہ میں واقع ان کے گھر پر لوگوں کا تانتا بندھ گیا ہے ۔شام چار بجے کے قریب ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی ۔

سنیل دت کی پیدائش پاکستان کے شہر جہلم میں چھ جون 1929 کو ہوئی تھی۔ فلم میں کامیاب اداکار ہونے کے بعد انہوں نے سیاست میں حصہ لیا اور اس میدان میں بھی انہوں نے مثال قائم کر دی تھی۔ پانچ مرتبہ وہ ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے ۔سنیل دت زندگی کی لڑائی بہت ہمت کے ساتھ لڑ رہے تھے ۔طیارہ حادثہ کے بعد وہ بہت بیمار ہوئے اور لیکن جسمانی بیماری نے ان کے حوصلہ کو نہیں توڑا ۔

کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی اور پارٹی کے دیگر لیڈروں نے مسٹر دت کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ محترمہ گاندھی نے کہا کہ سنیل دت اپنے کام میں بہت سنجیدہ تھے اور بڑے ہنر مند بھی۔ انکے انتقال سے پارٹی ہی کو نہیں بلکہ انکے مداحوں کو بھی کافی افسوس ہے۔

سیاست میں آنے سے قبل سنیل دت نے ہندی فلموں میں اپنی اداکاری کا لوہا منوایا تھا ۔ ایک اداکار کی حیثیت سے تاریخی فلم ’مدر انڈیا‘، سجاتہ، پڑوسن، جانی دشمن، میرا سایہ اور ملن جیسی کامیاب فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔ اپنے دور میں مسٹر دت نے تقریبا سبھی بڑے پروڈکشنز اور ہدایت کاروں کے ساتھ کام کیا تھا۔

مشہور نغمہ نگار جاوید اختر نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سنیل دت سیاستداں سے زیادہ سماجی خدمت گار تھے ۔وہ ایک اچھے انسان تھے۔ وہ سرحدوں پر جا کر وہ فوجی جوانوں کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے ۔ انیس سو باسٹھ میں انہوں نے سرحد پر جا کر فوجیوں کی ہمت افزائی کی تھی۔

یش چوپڑہ نے کہا کہ اس وقت ان کے پاس الفاظ نہیں ہے کہ جس سے وہ سنیل دت جیسی شخصیت کی تعریف کر سکیں۔وہ ایک اچھے دوست اچھے باپ تھے ۔انہوں نے کبھی غلط باتوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ مدر انڈیا میں اینگری ینگ کا کردار نبھایا تو پڑوسن میں مزاحیہ کردار جبکہ ریشماں اور شیرا میں ڈاکو کا کردار نبھایا اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہمہ جہت فنکار تھے۔

فلم اسٹار راجیش کھنہ ان کی سماجی خدمات کا اعترف کیا اور کہا کہ اچھا انسان نہیں مرتا۔انہوں نے جو فلمیں بھی بنایئں تو وہ سماج کے اندر پھیلی برائیوں کو اجاگر کرنا چاہتے تھے اس لئے جہیز مخالف فلم ’یہ آگ کب بجھے گی‘ اور کینسر پر درد کا رشتہ فلم بنائی تھی ۔انہیں ذات پات پر یقین نہیں تھا ۔مذہب اور ذات پات کی تفریق سے اونچا اٹھ کر انہوں نے کام کیا ۔اس لئے دنیا انہیں کبھی بھول نہیں سکتی ۔انسان مر جاتا ہے لیکن انسانیت اور ایک فنکار کبھی نہیں مرتا
سنیل دت کا فلمی سفر ریلوے پلیٹ فارم سے شروع ہوا تھا اور ان کی آخری فلم منا بھائی ایم بی بی ایس تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد