بالی وُڈ: تمام بڑی فلمیں ناکام کیوں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سال دو ہزار پانچ کے چار مہینے گزر چکے ہیں اور اس عرصے میں بالی وُڈ کو سوائے ناکامی کے اور کچھ نہیں ملا ہے۔ تمام بڑ ے بڑے بینرز کی فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن جس رفتار سے وہ سنیماگھروں میں آئيں اسی رفتار سے وہاں سے چلی بھی گئیں۔ 2005 میں اب تک تقریباً 28 فلمیں ریلیز ہو چکی ہیں جن میں تقریباً سبھی بڑے فلم ساز اور ہدایت کار کی فلم شامل تھی۔ لیکن کوئی بھی فلم شائقین کو پوری طرح متاثر نہ کر پائی۔ اب تک ریلیز ہونے فلموں میں ’ کسنا‘، ’اب تمہارے حوالے وطن ساتھیوں‘، ’بلیک‘، ’زہر‘، ’شبد‘، ’بےوفا‘، ’ٹینگو چارلی‘، ’پیج تھری‘، ’انسان‘ اور ’بلیک میل‘ قابل ذکر ہیں۔ فلم ٹریڈ میگزین ’ کمپلیٹ سنیما‘ کے مدیر ایس کمار موہن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان فلموں میں صرف تین فلموں نے باکس آفس پر اچھا بزنس کیا ہے۔ ان میں سنجے لیلا بنسالی کی ’بلیک‘، مدھر بھنڈارکر کی ’پیج تھری‘ اور مہیش بھٹ کی ’زہر‘ شامل ہیں۔ فلم بلیک پر تقریباً 18 سے 20 کروڑ روپے خرچ کیےگئے تھے۔ فلم کی کہانی میں اگرچہ امیتابھ بچن اور رانی مکھرجی جیسے بڑے اداکار تھے لیکن کہانی عام روش سے ہٹ کر خاصے سنجیدہ موضوع پر تھی۔ ایک بھی نغمہ نہ ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کو یہ اندیشہ تھا کہ یہ فلم فلاپ ہو جائے گی۔ لیکن ابتدائی چند ہفتوں کے بعد فلم نے ملک اور بیرون ملک اچھا کاروبار کیا۔
’استتو‘ اور ’چاندنی بار‘ جیسی فلموں کی کامیابی کے بعد ہدایت کار مدھر بھنڈارکر کی نئی فلم ’پیج تھری‘ ریلیز ہوئی۔ بھنڈارکر کی پچھلی فلموں کی طرح ہی یہ فلم بھی کم بجٹ کی تھی۔ فلم کا بجٹ تقریباً ساڑھے تین کروڑ تھا لیکن فلم نے پورے ہندوستان میں تقریباً 12 سے 15 کروڑ کا بزنس کیا۔ گزشتہ برس پوری فلم انڈسٹری کو نیا ٹرینڈ دینے والی فلم ’مرڈر‘ کے بعد اس سال مہیش بھٹ پروڈکشن ہاؤس نے ’زہر‘ سے سال کی ابتدا کی۔ فلم کے ہیرو عمران ہاشمی اور ہیروئن اودتا گوسوامی کے ’ہاٹ‘ مناظر فلم شائقین کو ایک مرتبہ پھر سنیما گھر تک کھیچ لائے۔ مہیش بھٹ کی تمام دوسری فلموں کی طرح اس فلم کا بجٹ بھی کم ہی تھا۔ دو سے ڈھائی کروڑ روپے میں بننے والی یہ فلم اب تک تقریباً آٹھ سے نو کروڑ روپے کا بزنس کر چکی ہے۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی دو بڑی فلميں ’وقت‘ اور ’لکی‘ نے اپنے ابتدائی ہفتوں میں اچھا بزنس کیا ہے۔ ’لکی‘ کا بجٹ 20 سے 22 کروڑ روپے تھا اور امیتابھ بچن اور اکشے کمار کی فلم ’وقت‘ کا بحٹ 10 سے 12 کروڑ روپے ہے۔
لیکن ان فلوں کے علاوہ گزشتہ چار مہینوں نے پوری انڈسٹری کو صرف مایوس ہی کیا ہے۔ بڑے بینر کی جن فلموں سے سب کو امیدیں تھی وہ سبھی ناکام ثابت ہوئيں۔ سبھاش گھئی کی ’ کسنا‘ ( بجٹ – 20 کروڑ)، انیل شرما کی ’اب تمہارے حوالے وطن ساتھیوں‘ (بجٹ – 10 کروڑ)، ایشوریہ رائے اور سنجے دت کی ’شبد‘ ( بجٹ -8 کروڑ) اور اسی طرح چھ سے آٹھ کروڑ روپے بجٹ والی تمام فلمیں جیسے ’بلیک میل‘، ’بےوفا‘، ’انسان‘، ’ٹینگو چارلی‘ شامل ہیں، جن سے پوری انڈسٹری اور خاص طور پر فلم شائقین کو کافی امیدیں تھیں لیکن ایک کے بعد سب فلاپ ہوتی چلی گئيں۔ کامیاب ہونے والی فلموں کے بارے میں مسٹر موہن نے بتایا کہ کامیابی کی وجہ ان کی نئی کہانی تھی۔ ان کا کہنا تھا ’لوگوں کو اب سب کچھ نیا چاہیے۔ پرانے اور گھسے پٹے موضوعات والی فلموں کو دیکھنے میں اب کسی کی دلچسپی نہیں رہی ہے۔‘ فلم انڈسٹری کے موجودہ حالات کی ذمہ داری کافی حد تک ویڈیو پائریسی یعنی نقالی اور مہنگا بجٹ ہے۔ فلم ساز اور ہدایتکار مہیش بھٹ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’سب سے پہلے اس وقت انڈسٹری کو کام کاج کے طریقے میں تبدیلی لانی ہوگی۔ اور فلم کے بجٹ پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔‘ مسٹر بھٹ نے کہا کہ انڈسٹری کو کافی حد تک ویڈیو پائریسی سے نقصان ہوتا ہے۔ ان کا اندازہ تھا کہ ’ایک فلم کا تقریباً 60 فیصد حصہ ویڈیو پائریسی کی نذر ہو جاتا ہے۔‘ آنے والے دنوں میں کئی بڑے بینر کی فلمیں ریلیز ہو رہی ہیں۔ ان میں ودھو ونود چوپڑا کی ’پارینتا‘، شاد علی کی ’بنٹی اور ببلی‘، عامر خان کی ’دا رائزنگ‘، شاہ رخ خان کی ’پہیلی‘، شیام بنیگل کی ’نیتا جی ۔ دا فارگاٹن ہیرو‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔ ان سبھی فلموں کی کہانی اور موضوعات نئے ہیں اور ان کا بجٹ بھی 10 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||