بالی وڈ کی فلم پر آسام میں پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں بالی وڈ میں تیار کی جانے والی ایک فلم ’ٹینگو چارلی‘ کی نمائش پر ریاست کی بانڈو اقلیت کی طرف سے احتجاج کے بعد پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بانڈو اقلیت سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اس فلم کے ایک سین پر اعتراض کیا تھا جس میں ایک بانڈو باغی کو ایک مغوی کا کان کاٹ کر اپنی محبوبہ کو پیش کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ بانڈو لوگوں نے کہا تھا کہ انہیں اس فلم میں درندوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے فلم ساز مانی شنکر سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سین کو فلم سے نکال دیا جائے۔ ریاستی حکومت نے بانڈو لوگوں کی طرف سے مظاہروں کے بعد اس فلم کی نمائش پر پابندی لگا دی ہے۔ ریاستی اسمبلی میں بانڈو نمائندے یورکھا گورا بھرما نے کہا کہ یہ سین بالکل ناقابلِ قبول ہے۔ نیشل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بانڈو گزشتہ اٹھارہ سال سے آسام میں بانڈو لوگوں کے لیے آزادی کی جدوجہد کر رہا ہے۔ تاہم گزشتہ سال انہوں نے آسام میں ایک خودمختار خطے کی تجویز پر اتفاق کر لیا تھا۔ بانڈو باغیوں کے ایک دھڑے کے علاوہ باقی سب نے زیادہ خودمختاری کی حکومتی تجویز مان لی تھی۔ کلکتہ سے بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ بانڈو باغی اکثر لوگوں کو اغوا کرکے ان کے اعضاء کاٹنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کے تاوان کے حصول کے لیے انہوں نے کبھی ایسی کوئی حرکت کی ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||