اوبرائے نے کچھ نہیں کیا: جے للیتا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست تامل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جے للیتا نے معروف اداکار وویک ابرائے پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے جھوٹی شہرت کے لیے سونامی کے متاثرین کے لیے اپنی امدادی کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا۔ جے للیتا نے ریاستی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوبرائے نے کچھ معنی خیز کام کیے بغیر زیادہ سے زیادہ شہرت حاصل کی ہے۔ اوبرائے نے تامل ناڈو میں سونامی کے بعد ایک منصوبے پر کام شروع کیا جسے بعد میں انہوں نے ہمسایہ ریاست پونڈی چری میں منتقل کر دیا۔ انہوں نے اس کی وجہ زمین خریدنے میں مشکلات کو قرار دیا۔ جے للیتا نے حزب اختلاف کے الزام کی تردید کی کہ اوبرائے ان کی حکومت سے عدم تعاون کی وجہ سے ریاست سے جانے پر مجبور ہوئے۔ جے للیتا کی طرف سے لگائے گئے الزامات پر رد عمل کے لیے اوبرائے سے رابطہ قائم نہیں کیا جا سکا۔ چھبیس دسمبر کو آنے والے سونامی سے تامل ناڈو میں آٹھ ہزار اور پونڈی چری میں چھ سو لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ ان دونوں ریاستوں میں ابھی بہت سے لوگ لاپتہ ہیں۔ سونامی کے بعد اوبرائے نے ساحلی علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا اور ان کے بقول انہوں نے بے گھر ہو جانے والے مچھیروں کے لیے ایک سو سے زیادہ عارضی رہائش گاہیں تیار کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگوں کی بری حالت سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے امدادی کاموں کی نگرانی کے لیے چند روز دیواناپتنم کے متاثرہ علاقے میں بھی قیام کیا۔ جے للیتا کا کہنا ہے دیواناپتنم میں نوّے فیصد کام ان کی حکومت نے کیا جبکہ اوبرائے نے دس فیصد کام کیا وہ بھی لوگوں کی امدادی رقم سے۔ اوبرائے نے حال ہی میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تامل ناڈو کی حکومت سے تعاون کے باوجود انہیں مچھیروں کے گھروں کے لیے زمین حاصل کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے کیونکہ وہ زیادہ تر وہاں لوگوں کی نجی ملکیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تامل ناڈو میں ان کی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ اوبرائے نے کہا کہ وفاق کے زیر انتظام پونڈی چری میں زمین حاصل کرنے میں صرف دس روز لگتے ہیں اور وہاں انہوں نے پچیس ایکڑ پر ایک منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||