پرویز مہدی انتقال کر گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہدی حسن کے پہلے اعلانیہ شاگرد اور معروف گلوکار پرویز مہدی پیر کی سہ پہر لاہور میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر ستاون برس تھی اور ان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ بیمار نہیں تھے۔ پرویز مہدی کو اسی سال ستارہ امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ انہوںنے ستر کی دہائی میں لاہور ریڈیو کے لیے ’میں جانا پردیس’ کے بول پر مبنی گیت گا کر شہرت حاصل کی۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے گائیک تھے اور اپنے استاد مہدی حسن کے رنگ میں گاتے تھے۔ انہوں نے گیت اور فوک گیت بھی گائے۔ پرویز مہدی نے تقریبا تیس سال گلوکاری کی۔ ان کا اصل نام پرویز حسن تھا لیکن اپنے استاد مہدی حسن سے عقیدت کی بنا پر بدل کر پرویز مہدی رکھ لیا اور اسی نام سے جانے جاتے تھے۔ لاہور میں مغل پورہ کے علاقے فیاض پارک کے رہائشی پرویز مہدی نے پسماندگان میں ایک بیوہ اور پانچ بچبوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||