جمشید انصاری انتقال کر گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ٹیلی ویژن اور فلم کے مزاحیہ اداکار جمشید انصاری بدھ کی صبح کراچی میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر تریسٹھ برس تھی۔ انہیں برین ٹیومر تھا جس کے لیے وہ کچھ عرصے تک مقامی ہسپتال میں داخل رہے۔ لیکن گزشتہ تین ماہ سے گھر پر ہی تھے۔ جمشید انصاری نے نہ صرف ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کی بلکہ انہیں ریڈیو کا بھی بڑا صداکار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ جمشید انصاری ملک کے بڑے کامیڈین اداکار تھے۔ ان کے کچھ مکالمے ’چقو ہے میرے پاس‘ ’ زور کس پے ہوا‘ اور’قطعی نہیں‘ وغیرہ لوگوں کی زبان پر چڑھ گئے تھے۔ جمشید اکتیس دسمبر انیس سو بیالیس میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہوگیا۔ گریجویشن کے بعد جمشید لندن چلے گئے جہاں انہوں نے کچھ عرصہ بی بی سی میں کام کیا۔ اور ٹی وی پروڈکشن کے سرٹیفکٹ کورس کیے۔ لندن میں قیام کے دوران انہوں نے شوکت تھانوی کے لکھے ہوئے ڈرامے ’سنتا نہیں ہوں بات‘ پیش کیا۔ وہ انیس سو اڑسٹھ میں واپس پاکستان آئے اور پی ٹی وی میں کام شروع کیا۔ انہوں نے اپنے کریئر کا آغاز ڈرامہ ’جھروکے‘ سے کیا۔ جمشید نے درجنوں ٹی وی ڈراموں میں کام کیا۔ ان کے شہرہ آفاق ڈراموں میں گھوڑا گھاس کھاتا ہے، کرن کہانی، انکل عرفی، تنہائیاں، زیر زبر پیش، شوشہ، ان کہی کہانی وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے دو درجن کے قریب قومی سطح کے فن کے ایوارڈ بھی حاصل کیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||