مجیب عالم سپرد ِ خاک کر دیے گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے مقبول گلوکار مجیب عالم جمعرات کو کراچی میں سپردِ خاک کر دیے گئے ان پر گزشتہ شب دل کا دورہ پڑا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ ان کا شمار ان گلو کاروں میں ہوتا تھا جنہوں نے اردو ہندی کے دیومالائی فنکار محمد رفیع کے انداز کی پیروی کرتے ہوئے گلوکاری کا آغاز کیا، تاہم مجیب عالم نے بہت جلد ہی اپنی ایک الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ فلم اور ریڈیو کے لیے گانے سے قبل انہوں نے اسلایج سے گانے کا آغاز کیا۔ فلموں میں ان کا ان کا پہلا مشہور گانا فلم چکوری کا تھا جو انہوں نے انیس سو سڑسٹھ میں گایا اور جس کی موسیقی روبن گھوش نے دی اور اس گانے پر انہیں نگار ایوارڈ بھی دیا گیا۔ یہ گانا تھا ’وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں‘۔ اس کے بعد فلم شمع اور پروانہ کے لیے گائے ہوئے ان کے تمام گانے انتہائی مقبول ہوئے۔ ان گانوں میں: اس کے بعد فلم ’گھر اپنا گھر، آوارہ، انجان، ماں بیٹا، لوری، اور متعدد دوسری فلموں کے گانے شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||