ثریا زندگی کی دوڑ ہار گئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی فلموں کی ممتاز اداکارہ و گلوکارہ ثریا سنیچر اکتیس جنوری کو اپنے ممبئی کے فلیٹ میں انتقال کرگئیں۔ ثریا چالیس اور پچاس کی دہائیوں میں بھارتی فلموں کی اتنی ہی مقبول اداکارہ تھیں جتنے راجیش کھنّہ انیس سو ساٹھ اور ستّر کی دہائیوں میں رہے۔ ثریا کئی برس تک بالی وڈ میں سب سے زیادہ پیسہ کمانے والی اداکارہ رہیں۔ ’پیار کی جیت‘ ’بڑی بہن‘ اور ’دلگی‘ جیسی ہٹ فلموں کے بعد وہ گھر گھر مقبول ہوگئیں۔ ان کی مقبولیت صرف اداکاری تک ہی محدود نہیں تھی وہ ایک کامیاب گلوکارہ بھی تھیں۔ اداکار سنیل دت نے ان کے ساتھ فلموں میں تو کام نہیں کیا مگر وہ ان کے ایک اچھے دوست تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ثریا کی موت سے فلمی دنیا کے عظیم فنکاروں کا ایک دور اختتام پذیر ہورہا ہے۔ ’اس دور کی جتنی بھی مہان اداکارائیں تھیں اب وہ آہستہ آہستہ جارہی ہیں۔ اور ثریا کے سر پر تو دو دو تاج تھے۔ وہ ایک اچھی فنکارہ بھی تھیں اور ایک گلوکارہ بھی تھیں۔‘ اگرچہ دیو آنند کے ساتھ ان کی چھ فلمیں زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوئیں لیکن ان کا عشق خوب پروان چڑھا۔ انیس سو اکتالیس میں ثریا شیخ جمال بارہ برس کی عمر میں فلم ’تاج محل‘ میں چائلڈ اسٹای حیثیت سے پہلی بار فلموں میں آئیں۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے فلموں میں گانا بھی شروع کردیا۔ ’سوچا تھا کیا، کیا ہوگیا‘۔۔۔’دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے‘ اور ’یہ عجیب داستاں‘ جیسے گانوں نے انہیں گلوکارہ کی حیثیت سے ملک بھر میں شہرت دی۔ بطور اداکارہ ان کی کامیاب فلموں میں ’انمول گھڑی‘ ۔۔۔’مرزا غالب‘ اور ’رستم و سہراب‘ خاص تھیں۔ انیس سو تریسٹھ میں رستم و سہراب کے بعد انہوں نے چونتیس سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ اختیار کرلی تھی۔ وہ ممبئی میں اپنے بڑے سے فلیٹ میں تنہا رہتی تھی کیونکہ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھیں انہوں نے شادی نہیں کی اور ان کے تمام رشتہ دار پاکستان چلے گئے تھے۔ آخری ایام میں ان کی دیکھ بھال ان کے پڑوسی کررہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||