نیپال: ریڈیو سٹیشن بند، پانچ گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں پولیس نے ایک ریڈیو سٹیشن کو اس وقت بند کر کے اس کے عملے کے پانچ افراد کو گرفتار کیا جب وہ ماؤ باغی رہنما کا انٹرویو نشر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بی بی سی نیپالی سروس کی رابندرا مشرا نے یہ انٹرویو لیا تھا اور نیپال کا ریڈیو اس کو نشر مکرر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس انٹرویو میں ماؤ رہنما پشپا کمل داہل جو پراچاندہ کے نام سے مشہور ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر بادشاہ گئندرا ملک میں ایک آئینی اسمبلی کے لیے آزاد اور شفاف انتخابات کرواتے ہیں تو باغی بادشاہت کے خلاف مخالفت پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں۔ اتوار کو نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں واقع ساگرماتھا نامی ریڈیو پر اس وقت چھاپا مارا گیا جب وہ ماؤ باغی رہنما کا انٹرویو نشر کرنے ہی والا تھا۔ عملے کے چار افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا اور اس گرفتاری کو دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت کا نام دیا۔ اس ریڈیو کے ایکٹنگ مینیجر گھاما راج لوانتل کا کہنا ہے کہ شاہی حکومت کے افسران جنہوں نے چھاپا مارا وہ ایک خط چھوڑ گئے جس میں سٹیشن کو نشریات دوبارہ شروع نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام کے خلاف ایک نیا کیس عدالت میں داخل کیا جائے گا۔ وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ نشریات اس لیے روک دی گئی کیونکہ حکومت کا ماننا ہے کہ ریڈیو سٹیشن نے ممنوعہ چیز نشر کرنے کی کوشش کی۔ حکومت نے دوماہ قبل ذرائع ابلاغ کے حوالے سے ایک متنازعہ قانون متعارف کروایا ہے جس کے تحت ایف ایم ریڈیو پر خبریں نشر کرنے پر پابندی ہے۔ صحافیوں کی بین الاقوامی فیڈریشن نے اس چھاپے کی مذمت کی ہے۔ کھٹمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے تک نیپال میں بی بی سی کی نیوز ویب سائٹس تک رسائی ممکن نہیں تھی لیکن اب انہیں وزٹ کیا جا سکتا ہے۔ شاہ گئندرا نے اس سال فروری میں اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی تھی کہ سابقہ حکومت نے ماؤ باغیوں سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات نہیں اٹھائے۔ | اسی بارے میں ماؤباغیوں سے براہ راست مذاکرات15 October, 2004 | آس پاس باغیوں کے ساتھ حکومت کا معاہدہ11 January, 2005 | آس پاس ’باغیوں کے مطالبات قبول نہیں‘27 June, 2004 | آس پاس سوڈان:حکومت اور باغیوں میں معاہدہ09 January, 2005 | آس پاس نیپال: چالیس ماؤ نواز باغی ہلاک26 February, 2005 | آس پاس باغیوں کاشاہ سے بات کرنے سےانکار 04 September, 2005 | آس پاس ٹائیگر باغیوں نےدھمکی دے دی27 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||