باغیوں کاشاہ سے بات کرنے سےانکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں ماؤ نواز باغیوں کی جانب سے تین ماہ کی یک طرفہ جنگ بندی کے اعلان کے صرف ایک دن بعد ہی باغیوں نے شاہ گئندرا سے کسی بھی قسم کی بات چیت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ وہ صرف حزب اختلاف کی جماعتوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور حکومت کے وفاداروں سے بات نہیں کریں گے۔ حزب اختلاف کی اہم جماعتوں اور دوسرے لوگوں نے ماؤ نواز باغیوں کی جانب سے عارضی جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم اب تک حکومت اور اس کے زیراثر ذرائع ابلاغ نےاس عارضی جنگ بندی کےاس اعلان پر کسی قسم کے رد عمل کا اظہارنہیں کیاہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے ماؤ نواز باغیوں کے ترجمان کرشنا بہادر مہارا کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت حزب اختلاف اور سفارت کاروں سے بات کر سکتی ہے لیکن حکومت سے کسی بات چیت کی امید نہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ شاہ کو اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا۔ وزیروں کی کونسل کے نائب چئیرمین تلسی گری نے بتایا کہ حکومت ماؤ نواز باغیوں کے اس بیان کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی جواب دے گی۔ شاہ نے فروری میں اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ انہوں نے اس کا جواز یہ بتایا تھا کہ سیاسی رہنما ملک میں نوسال سے جاری بغاوت پر قابو پانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ ماؤ نواز باغیوں کی جانب سے شاہ کو اقتدار سے ہٹانے کی کوششوں میں اب تک بارہ ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ دوسری حزب اختلاف کی جماعتوں، کاروباری اور سماجی تنظیموں نے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ ماؤ نواز باغیوں نے اہم سیاسی جماعتوں سے درخواست کی ہے کہ شاہ کو ہٹانے کے لیے ایک مشترکہ اتحاد بنایا جائے۔ اس ہفتے کے آغاز میں شاہ نےحزب اختلاف کی جماعتوں کو بات چیت کی پیش کش کی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||