نیپالی کمپنیوں کو پھر دھمکی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماؤ نواز باغیوں کی تازہ ترین دھمکیوں کے نتیجے میں نیپال کی مزید 35 کمپنیاں بند کر دی گئی ہیں۔ ماؤ نواز باغیوں کی پچھلے مہینے سے دی جانے والی دھمکیوں کے نتیجے میں نیپال میں اب تک کل 46 کمپنیاں بند کی جاچکی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ماؤ نواز باغیوں کا یہ فیصلہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ جبکہ بند کی گئی 35 کمپنیوں کے مالکان کا یہ کہنا ہے کہ انکے پاس سوائے اپنی کمپنیاں بند کرنے کے اور کوئی چارہ نہ تھا۔ نیپال- برطانیہ چیمبر آف کامرس کے صدر راجیندر کھیتان نے بتایا ہے کہ صنعت کاروں کو یہ ڈر تھا کہ اگر وہ ماؤ نواز باغیوں کی دھمکیوں کو نظر انداز کردیں تو وہ دھماکے کریں گے۔ چندروز قبل ماؤ نواز باغیوں نے کھٹمنڈو کی ایک ہوٹل سمیت دوسری کمپنیوں پر سچ مچ دھماکے کئے تھے۔ نیپال کے باغیوں کے نشانے پر آئی کمپنیوں میں شاہی گھرانے سمیت فیڈریشن آف نیپالیز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر بنود بہادر شریشٹہ کے مطابق پچھلے بند کی گئی کمپنیوں کی وجہ سے ہر روز دو لاکھ ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔ لیکن ماؤ نواز باغی کہتے ہیں کہ مزدوروں کوکمپنیوں کے مالک پریشان کرتے ہیں ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||