ٹائیگر باغیوں نےدھمکی دے دی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا میں تامل ٹائیگر باغیوں نے نئی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک سال کے اندر اندر مسئلے کا سیاسی حل پیش کرے۔ ٹائیگرز کے رہنما ویلو پِلی پربھاکرن نے کہا کہ تامل لوگ ’ برداشت اورامید‘ کھو چکے ہیں۔ انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی آخری اپیل ہے اور اگر آنے والے سال میں کوئی منصوبے پیش نہیں کیا جاتا تو وہ خود مختار حکومت کے لیے اپنی جد وجہد تیز تر کر دیں گے۔ واضح رہے کہ سری لنکا کے نو منتخب صدر نے باغیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ صدر مہندا راج پاکسے نے ٹائیگرز کے ایک آزاد مملکت کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس پرانے تنازعے کا حل سری لنکا کی مملکت کے اندر رہتے ہوئے تلاش کیا جائے گا۔ صدر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پربھاکرن نے کہا کہ ’پالیسی کے لحاظ سے صدر اور میرے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہے۔‘ تامل ٹائیگرز کے رہنما نے مزید کہا کہ نئے صدر کو ایک حقیقت پسند شخص سمجھا جاتا ہے لیکن ’میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ وہ ٹائیگرز کے ساتھ امن قائم کرنے کے سلسلےمیں کیا کرتے ہیں۔‘
’اگر نئی حکومت ہماری اس اپیل کو رد کرتی ہے تو ہم اگلے سال سے اپنی قومی آزادی اور ایک خود مختار ریاست کے لیے جدو جہد تیز کر دیں گے کیونکہ ہمارے لوگ امید کھو چکے ہیں۔‘ واضح رہے کہ تامل ٹائیگرز بیس سال سے زیادہ عرصے تک ملک کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں خود مختار حکومت کے لیے لڑتے رہے ہیں جس میں ٹھہراؤ سن دو ہزار دو میں اس وقت آیا جب ناروے ٹائیگرز اور مرکزی حکومت کے درمیان امن معاہدہ کرانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ | اسی بارے میں ’جنگ میرا طریقہ نہیں‘20 November, 2005 | آس پاس تامل ٹائیگروں کا داخلہ بند27 September, 2005 | آس پاس سری لنکا میں امن کو خطرہ13 August, 2005 | آس پاس وزیرِخارجہ سری لنکا قتل کردیے گئے12 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||