’جنگ میرا طریقہ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کے نومنتخب صدر مہندا راج پکشے نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا ہے کہ وہ تامل ٹائیگرز کے ساتھ جنگ بندی کو یقینی بنائیں گے لیکن ملک کو تقسیم کرنے کی ہر کو شش کی مخالفت کریں گے۔ سری لنکا کے سابق وزیر اعظم دارالحکومت کولمبو میں اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد قوم سے خطاب کر رہے تھے۔ ساٹھ سالہ راج پکشے نے جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں پچاس فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے تامل ٹائیگرز کے خلاف سخت رویہ اپنائے رکھا لیکن اپنی افتتاحی تقریر میں انہوں نے اس سلسلے میں نرمی دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا ’ جنگ میرا طریقہ نہیں ہے اور میں آج اپنی اس خواہش کا اعادہ کرتا ہوں کہ میں تامل ٹائیگرز کے ساتھ براہ راست مذاکرات کروں گا۔‘ واضح رہے کہ 2002 میں جنگ بندی سے پہلے تامل ٹائیگرز تیس سال تک سری لنکا کی حکومت کے خلاف لڑتے رہے ہیں اور اس لڑائی میں ساٹھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ نو منتخب صدر نے مزید کہا کہ ان کی حکومت جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کرے گی لیکن ’میں معاہدے کی شرائط پر نظر ثانی کے لیے تیار ہوں۔‘ جمعرات کے انتخابات میں ملک کی تامل آبادی اور تامل ٹائیگرز کے زیراثر علاقوں میں تقریباً تمام لوگوں نےووٹ نہیں ڈالا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکہ نے کہا ہے کہ یہ علیحدگی پسندوں کی طرف سے ’خوف پھیلانے‘ کی وجہ سے ہوا ہے۔ امریکہ کے محکمہ خارجہ کے مطابق ’ امریکہ جمہوری عمل میں اس قسم کی دخل اندازی کی مذمت کرتا ہے کیونکہ اس سے سری لنکا میں لوگوں کی اچھی خاصی تعداد اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے محروم رہی ہے۔‘ | اسی بارے میں سری لنکا نئے صدر کے بعد19 November, 2005 | صفحۂ اول سری لنکا: مہندا راج پکشے کی فتح18 November, 2005 | آس پاس تامل ٹائیگرز مذاکرات پر راضی19 August, 2005 | پاکستان کشیدگی سے امدادی کام متاثر07 January, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||