سری لنکا: مہندا راج پکشے کی فتح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کے وزیرِاعظم مہندا راج پکشے نے ملک میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں سادہ اکثریت سے فتح حاصل کر لی ہے۔ مہندا راج پکشے نے پچاس فیصد سے کچھ زیادہ ووٹ حاصل کر کے اپنے مدمقابل اور حزبِ اختلاف کے رہنما رانل وکرما سنگھے کو شکست دی۔ مہندا راج پکشے نے اڑتالیس لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے جو کہ ان کے مدِ مقابل سے ایک لاکھ اسّی ہزار ووٹ زیادہ تھے۔ اس الیکشن میں تیرہ امیدوار شریک تھے۔ مہندا پکشے کی فتح سے سری لنکا کی خاتون صدر چندریکا کماراتنگا کے گیارہ سالہ راج کا خاتمہ بھی ہوا ہے۔ سری لنکا کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں ووٹنگ کا تناسب 75 فیصد کے قریب رہا جبکہ تامل اکثریتی شمالی اور مشرقی سری لنکا میں ووٹنگ کی شرح نہ ہونے کے برابر رہی۔ ملک کی تامل آبادی نے ان انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کیا اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس بائیکاٹ کی وجہ سے مہندا کی کامیابی کی راہ ہموار ہوئی۔ سری لنکا کے الیکشن کمشنر دیا نندا دسانائکے نے مشرقی سری لنکا میں ووٹنگ کے بائیکاٹ کی تصدیق کی۔ان کا کہنا تھا کہ ’وہاں بالکل ووٹ نہیں ڈالے گئے‘۔ مہندا راج پکشے کا تعلق سری لنکا فریڈم پارٹی سے ہے اور وہ تامل چھاپہ ماروں کے بارے میں سخت گیر موقف رکھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ تامل باغیوں کے ساتھ امن مذاکرات میں سخت رویہ اپنائیں گے۔ مہندا نجکاری کے عمل کے بھی مخالف ہیں اور کسانوں کو رعایات دینے کے حق میں ہیں۔ سری لنکا کے تامل ٹائیگرز نے ان انتخابات سےلاتعلقی ظاہر کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس الیکشن کے نتیجے سےکوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس مرتبہ کے صدارتی انتخابات گزشتہ کئی انتخابات کے مقابلے میں پر سکون رہے اور تشدد کے کسی بڑے واقعے کی خبر نہیں ملی۔ | اسی بارے میں تامل ٹائیگروں کا داخلہ بند27 September, 2005 | آس پاس میں ووٹ نہیں ڈالتا: الیکشن کمشنر25 September, 2005 | آس پاس سری لنکا میں امن کو خطرہ13 August, 2005 | آس پاس وزیرِخارجہ سری لنکا قتل کردیے گئے12 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||