BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 August, 2005, 01:38 GMT 06:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سری لنکا میں امن کو خطرہ
لکشمن کادرگامر
لکشمن کادرگامر تامل ٹائیگرز سے مذاکرات کے مخالف تھے
سری لنکا کے وزیرِ خارجہ لکشمن کادرگامر کے قتل کے بعد ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ سری لنکا کی حکومت نے وزیر خارجہ کے قتل کو ملک میں امن کی کوششوں کے لیے دھچکا قرار دیا ہے۔

کادر گامر کو کولمبو میں ان کے گھر میں ایک نامعلوم ’سنائپر‘ یا بندوقچی نےگولیوں کا نشانہ بنایا تھا۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ کر چل بسے۔

سری لنکا کی صدر چندریکا کمارا ٹنگا نے کہا ہے کہ کادرگامر ہمارے زمانے کے ہیرو تھے اور انہیں سیاسی دشمنوں نے قتل کیا ہے تاہم انہوں نے تامل باغیوں پر الزام تراشی سے گریز کیا۔

سری لنکن صدر نے کہا کہ ’ کادرگامر نے اپنی جان کو لاحق خطرے کے باوجود دہشت گردی کے خلاف انتھک لڑائی لڑی‘۔

سری لنکن صدر نے عوام سے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

سری لنکا کے ایک سینئر پولیس افسر نے حملے کی ذمہ داری علیحدگی پسند تامل باغیوں پر عائد کی ہے تاہم باغیوں نے وزیرِ خارجہ کی ہلاکت میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

تامل باغیوں کے سیاسی دھڑے کے سربراہ ایس پی تامل سلون نے بی بی سی کی تامل سروس کو بتایا کہ’ ہم اپنے اوپر لگائے جانے والے اس الزام کی مذمت کرتے ہیں اور اس قتل میں کسی بھی طریقے سے ملوث ہونے سے انکار کرتے ہیں‘۔

بی بی سی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں تامل باغیوں نے کم ہی اپنے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تامل باغی سنہ دو ہزار دو سے سیزفائر پر عمل کر رہے ہیں۔ اس سیزفائر کی نگرانی کر نے والے ناروے کے مبصرین کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس حملے سے سری لنکا کی حکومت اور تامل باغیوں کے درمیان جاری جنگ بندی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ملک میں ہنگامی حالت کےنفاذ پر ایک صدارتی ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ یہ ایک قانونی فیصلہ ہے اور اس کے تحت فوج کو آسانی سے تعینات کیا جاسکتا ہے۔

لکشمن کادرگامر کی عمر 73 سال تھی اور انہیں گزشتہ سال اپریل میں سری لنکا کا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا تھا۔ان کا تعلق تامل اقلیت سے تھا لیکن وہ ماضی میں تامل ٹائیگرز سے مذاکرات کی مخالفت کرتے رہے تھے۔

حملے کے فوراً بعد سری لنکا کی سیکورٹی فورسز نے ایک بڑا شروع آپریشن کیا اور علاقے کی ناکہ بندی کردی۔ اس آپریشن میں دو افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد